پاکستان

وزیر داخلہ کی اسلام آباد میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ہوٹل انڈسٹری پر زیرو ٹیکس پالیسی کی ہدایت

  • نئی پالیسی سے ہاسپیٹیلٹی سیکٹر میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی، محسن نقوی
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں فائیو اسٹار ہوٹلوں کی تعمیر میں تیزی لانے اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ہوٹل انڈسٹری سے متعلق نئی ’زیرو ٹیکس‘ پالیسی مرتب کی جائے۔

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ہیڈ کوارٹرز میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد کو ایک ماڈل شہر میں تبدیل کیا جانا چاہیے جہاں عوام کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات اور جدید تفریحی مواقع میسر ہوں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عالمی سطح پر شہرت یافتہ کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے تحت فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر کیے جائیں گے۔ اس موقع پر ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کے اشتراک سے جاری فائیو اسٹار ہوٹل منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ نئی پالیسی سے ہاسپیٹیلٹی سیکٹر میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی اور کاروبار و سیاحت کے لیے ایک بین الاقوامی منزل کے طور پر اسلام آباد کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔ اجلاس میں رہائشیوں اور سیاحوں کو جدید تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں 1,000 ایکڑ پر محیط عالمی معیار کا پارک بنانے کی بھی منظوری دی گئی۔

حکم نامے کے مطابق اسلام آباد کی تمام اراضی اور جائیدادوں کا جامع سروے سروے آف پاکستان کے ذریعے کرایا جائے گا، تاکہ شفافیت اور سرکاری اثاثوں کے انتظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ مستقبل کی تمام نیلامیوں کے لیے ایک مخصوص مارکیٹنگ ٹیم مقرر کی جائے، تاکہ سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت اور عوامی منصوبوں کے لیے بہتر منافع کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ہنگامی صورتحال میں بہتر ردعمل اور کوآرڈینیشن کے لیے کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کا کنٹرول روم سیف سٹی کے اندر قائم کیا جائے گا۔ چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف نے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سی ڈی اے کے تمام ڈیٹا اور ٹرانسفر سسٹم کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔

سی ڈی اے میں ون ونڈو آپریشن کے تحت ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بھی متعارف کرایا جائے گا، جبکہ ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے غیر ضروری آسامیوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ اجلاس میں سی ڈی اے کے سینئر ممبران، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔