پاکستان

پاکستان نے شیعہ برادری سے متعلق بھارتی بیان مسترد کر دیا

  • رپورٹس کے مطابق 2025 میں 55 سے زائد مسلمان قتل کیے گئے جبکہ جنوری 2026 سے اب تک 19 سے زائد افراد ایسے ہی واقعات میں جاں بحق ہوئے
شائع March 28, 2026 اپ ڈیٹ March 29, 2026

پاکستان نے ہفتہ کے روز بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان کی شیعہ برادری کے حوالے سے دیئے گئے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’مکارانہ اور توجہ ہٹانے پر مبنی‘ قرار دیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرا بی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بھارت کا یہ بیان تشویش کا دکھاوا کرنے والی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کے بیانات اس کے اپنے ریکارڈ کو چھپا نہیں سکتے، جو اقلیتوں بشمول مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر پسماندہ گروہوں کے خلاف امتیاز اور تشدد کو بتدریج معمول بنایا جا رہا ہے۔ اس میں عبادت گاہوں پر پابندیاں، ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور گھروں و روزگار کو نشانہ بنانا شامل ہے۔

ترجمان نے بھارت میں بلوائیوں کے ذریعے ہونے والے پرتشدد واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بلا روک ٹوک ظلم کے ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 میں 55 سے زائد مسلمانوں کو بلوائیوں نے قتل کیا، جبکہ جنوری 2026 سے اب تک 19 سے زائد ایسے ہی واقعات میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ انتہا پسند گروہوں نے عبادت گاہوں، بشمول مساجد، کو بھی نشانہ بنایا اورمجرم اکثر ریاستی سرپرستی کے باعث قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔

پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ان مسائل کو حل کرے اور اپنی آئینی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ساتھ ہی نئی دہلی سے کہا گیا ہے کہ وہ دیگر ممالک کے بارے میں بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی بیانات دینے سے گریز کرے۔