پاکستان

بھارت دنیا کی سب سے بڑی اسلاموفوبک ریاست بن چکا ہے، پاکستانی مندوب

  • حال ہی میں رمضان المبارک کے دوران سری نگر میں جمعہ کی نماز پر پابندی عائد کی گئی، عاصم افتخار
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑا اسلاموفوبک ریاست بن چکا ہے اور اس کی پالیسیوں کا نشانہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی سمیت دیگر اقلیتیں بھی بن رہی ہیں۔

یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد کے لیے او آئی سی کور گروپ کے چیئرمین کی حیثیت سے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے او آئی سی کی اسلاموفوبیا سے متعلق 17ویں رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے دستاویزی واقعات میں سب سے زیادہ حصہ بھارت کا ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حال ہی میں رمضان المبارک کے دوران سری نگر میں جمعہ کی نماز پر پابندی عائد کی گئی، جبکہ مسلمانوں کے خلاف ہجوم کے تشدد اور تاریخی مساجد کی مسماری جیسے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات مسلمانوں کے خلاف جاری امتیازی سلوک کی واضح مثال ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسلاموفوبیا جیسے عالمی مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مکالمہ، باہمی احترام، رواداری، ہمدردی، یکجہتی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اس فورم میں شامل ہو کر اسلاموفوبیا کی مذمت کرے گا اور یہ بھی بتائے گا کہ وہ اپنے ملک میں نفرت پر مبنی انتہا پسند ہندوتوا نظریے کے باعث متاثر ہونے والے لاکھوں مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کرے گا۔

عاصم افتخار احمد کے مطابق بھارت نے اس سوال کا جواب دینے کے بجائے بحث کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، جو اسلاموفوبیا کے متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہے اور اس نفرت انگیز نظریے کے خلاف عالمی کوششوں کو کمزور کرتا ہے۔