سی ٹی ایس اور ای بلٹی: ایف بی آر کا ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ٹیکس گیپ ختم کرنے کیلئے معاہدہ
- ایف بی آر اور کورین وینڈر کمپنی کے درمیان معاہدے پر دستخط
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اپنے ڈیجیٹلائزیشن اور جدید کاری کے ایجنڈے میں ایک سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ ایف بی آر نے نیشنل کارگو ٹریکنگ سسٹم (سی ٹی ایس) اور ای بلٹی طریقہ کار کی اسٹریٹجک فزیبلٹی، اسسمنٹ اور سلوشن ڈیزائن کے لیے باضابطہ طور پر معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔
اس سلسلے میں ایف بی آر اور کورین وینڈر کمپنی کے درمیان معاہدے پر دستخط کی تقریب ایف بی آر ہاؤس میں منعقد ہوئی۔
ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام ڈیجیٹل مداخلت کے ذریعے اسمگلنگ اور سیلز ٹیکس کی چوری کو روک کر 7.1 ٹریلین (71 کھرب) روپے کے ٹیکس گیپ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
عالمی بینک کے مالی تعاون سے پاکستان ریزز ریونیو پروگرام (پی آر آر پی) کے تحت جاری اس منصوبے کی قیادت نیشنل ٹارگٹنگ سینٹر (این ٹی سی) کررہا ہے۔ اس کا مقصد مال برداری کی روایتی، دستی (مینول) اور کاغذی دستاویز، جسے مقامی طور پر ’بلٹی‘ کہا جاتا ہے، کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک مرکزی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی الیکٹرانک ٹرانسپورٹ وے بل (ای-بلٹی) متعارف کروانا ہے۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں ایف بی آر کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور چیف ریفارمز اینڈ ماڈرنائزیشن، ڈاکٹر نجیب نے کہا کہ متعدد اداروں کی جانب سے دستی چیکنگ اور کاغذی دستاویزات پر انحصار تجارت کی راہ میں بڑی رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قانونی تاجروں کے لیے سامان کی ترسیل کے وقت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر نجیب نے مزید بتایا کہ مجوزہ سی ٹی ایس پلیٹ فارم تجارتی کارگو کی روانگی سے لے کر منزل تک پہنچنے تک کی ریئل ٹائم (بروقت) ٹریکنگ کو ممکن بنائے گا۔ ایک منفرد اور فوری طور پر قابلِ تصدیق کیو آر کوڈ کے حامل ای-بلٹی کے ذریعے یہ نظام کسٹمز کی انفورسمنٹ ٹیموں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ قانونی اور غیر قانونی کارگو کو آسانی سے الگ کر سکیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026