مشرق وسطیٰ میں حملوں کے باعث قطر کی ایل این جی پیداوار بند، سعودی ریفائنری سمیت عراقی کردستان اور اسرائیل کے تیل و گیس کے ذخائر معطل

  • عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں میں 13 فیصد کا بڑا اضافہ، قیمت 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی
شائع March 2, 2026 اپ ڈیٹ March 2, 2026 09:30pm

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی کارروائیوں اور ایران کی جوابی کارروائی کے باعث پیر کو خطے میں توانائی کی تنصیبات بڑے پیمانے پر بند کر دی گئیں۔

قطر نے اپنی ایل این جی کی پیداوار روک دی ہے جبکہ ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب نے اپنی سب سے بڑی ریفائنری راس تنورہ کو احتیاطی طور پر بند کر دیا ہے، جو یومیہ 5 لاکھ 50 ہزار بیرل تیل صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تین روز سے جاری حملوں کی لہر نے عراقی کردستان میں تیل کی پیداوار اور اسرائیل کے بڑے گیس فیلڈز (بشمول لیوائیتھن) کو بھی معطل کر دیا ہے، جس سے مصر کو ہونے والی برآمدات رک گئی ہیں۔

ان حالات میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 13 فیصد اضافے کے ساتھ 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جو جنوری 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ عالمی سپلائی کا پانچواں حصہ فراہم کرنے والی آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔

ایران کے جزیرہ خارک پر بھی دھماکے سنے گئے جہاں سے ایران کی 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ ایران اوپیک کا تیسرا بڑا ملک ہے جو عالمی رسد کا 4.5 فیصد فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب قطری حکومت کے مطابق قطر انرجی کی ایک تنصیب پر دو ایرانی ڈرونز نے حملہ کیا ہے جس کے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔