پاکستان

کوہاٹ حملہ : ڈی ایس پی سمیت 6 پولیس اہلکار شہید

  • زخمی ہونے والے تینوں اہلکار اس وقت اسپتال میں زیرِ علاج ہیں
شائع February 24, 2026 اپ ڈیٹ February 24, 2026 02:43pm

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے ایک اور افسوسناک واقعے میں کوہاٹ کے علاقے شکردرہ روڈ پر مسلح حملہ آوروں نے پولیس کی موبائل وین کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت کم از کم چھ پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس حملے میں ڈی ایس پی اسد محمود اور ان کے دو ساتھی موقع پر ہی شہید ہو گئے، جبکہ تین اہلکاروں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ دیا۔

زخمی ہونے والے مزید تین اہلکار اس وقت زیرِ علاج ہیں۔ فائرنگ کے بعد دہشت گردوں نے پولیس گاڑی کو آگ لگا دی، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہداء کی لاشیں ضروری کارروائی کے لیے لاچی اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ تھا جس میں پولیس وین کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد کوہاٹ اور گردونواح میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کر دی گئی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کوہاٹ میں فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے پولیس گاڑی پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ڈی ایس پی اسد محمود اور دیگر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان افسران نے قوم کے کل (مستقبل) کے لیے اپنا آج قربان کر دیا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں تشدد کے واقعات میں کمی کے بعد جنوری 2026 کے آغاز میں دہشت گردانہ حملوں میں دوبارہ تیزی دیکھی گئی ہے۔ جنوری میں لڑائی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں دسمبر کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوری میں ملک بھر میں شدت پسندوں کے 87 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہوئیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کو کافی حد تک کمزور کر دیا گیا ہے اور صرف 2025 میں 3500 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے، تاہم اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مقامی آبادی کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔