پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کے لیے ہواوے کا تعاون جاری رکھنے کا عزم
- مصنوعی ذہانت سے صحت، زراعت اور ٹرانسپورٹ جیسے بڑے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں، ہواوے
آئی سی ٹی سلوشنز میں عالمی سطح پر صفِ اول کے ادارے ہواوے نے پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ملک کی معاشی اور تکنیکی ترقی کے مرکز کے طور پر رکھا گیا ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل ارتقاء کے اس اہم مرحلے پر حکومت گورننس، صنعت اور تعلیم کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے نفاذ کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں سینٹرز آف ایکسی لینس کے قیام اور جامعات کے نصاب میں اے آئی کو شامل کرنے جیسے اقدامات جاری ہیں۔
ہواوے کے مطابق مصنوعی ذہانت سے صحت، زراعت اور ٹرانسپورٹ جیسے بڑے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ہواوے نے واضح کیا کہ وہ محض ہارڈ ویئر فراہم کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ ایک جامع سلوشن پارٹنر ہے جو مکمل آئی سی ٹی انفرااسٹرکچر فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ہواوے کے سی ای او برائے کلاؤڈ بزنس احمد بلال مسعود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کا مقصد صرف ٹیکنالوجی کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان کی مقامی استعداد کار میں اضافہ کرنا اور اسے عالمی سطح پر مقابلے کے لیے تیار کرنا ہے۔ ہواوے اور حکومتِ پاکستان کے درمیان یہ تعاون ملک کے ڈیجیٹل سفر کو تیز کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026