پاکستان

نیب نے ایک ہزار سے زائد ہاؤسنگ سوسائٹیز آن لائن پراپرٹی سسٹم میں شامل کر لیں

  • عہدیدار کے مطابق سسٹم اس وقت تکنیکی ٹیم کی جانچ پڑتال میں ہے
شائع February 14, 2026 اپ ڈیٹ February 14, 2026 11:14pm

قومی احتساب بیورو (نیب) نے اپنے آن لائن پراپرٹی سسٹم میں ملک بھر کی 1,026 ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لے آؤٹ پلانز کو شامل کیا ہے، یہ بات ہفتہ کے روز معلوم ہوئی ہے۔

اس بات کا انکشاف ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب راولپنڈی/اسلام آباد وقار احمد چوہان نے کراچی میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار نیب نے آن لائن پراپرٹی سسٹم تیار کیا ہے جس میں ملک بھر کی 1,026 ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لے آؤٹ پلانز کو سسٹم میں شامل کیا گیا ہے۔

چوہان کے مطابق آن لائن پراپرٹی سسٹم اس وقت تکنیکی ٹیم کی جانچ کے مرحلے میں ہے اور جلد ہی اسے عوام کے لیے متعارف کرا دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سسٹم میں صرف منظور شدہ لے آؤٹ پلانز ہی شامل کیے جائیں گے، جبکہ ایسے منظور شدہ منصوبوں کی شمولیت کا عمل جاری ہے۔

دریں اثنا، ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی نے بتایا کہ صوبائی سطح پر بیورو نے 1.5 کھرب روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کرائی ہے اور 10 کھرب روپے کی مزید زمین واپس لینے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔

اس سے قبل نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ (ر) نے کہا تھا کہ نیب نے گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران سندھ میں 4 کھرب روپے مالیت کی 18 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی برآمد کر کے محکمہ ریونیو کے حوالے کی۔

درانی کے مطابق زمین سے متعلق معاملات کے حل کے لیے نیب اور سندھ حکومت ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دے رہے ہیں جو جلد فعال ہو جائے گی۔ ان کے بقول نیب اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ زمینوں کے معاملات پر متفق ہیں۔

انہوں نے رائے دی کہ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈوئلپرز (آباد) کے مطالبے کے مطابق زمین کی فروخت نیلامی کے ذریعے ہونی چاہیے۔

آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا کہ پارک کی اراضی سمیت پانچ پلاٹس بازیاب کرا لیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین نیب نے آباد کو ان اراضی معاملات میں تعاون کی دعوت دی اور کہا کہ زمین سے متعلق کسی بھی مسئلے سے نیب کو آگاہ کیا جائے۔

بخشی کے مطابق نیب کی کلیئرنس کے بعد ملکیتی تنازعات حل ہو جائیں گے اور بلڈرز کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا، جس سے کراچی میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے تاجر برادری اور نیب کے درمیان ایک کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا تاکہ عدالت سے باہر معاملات طے کیے جا سکیں اور طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹایا جا سکے۔