کاروبار اور معیشت

میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری کی محتاط امید کا اظہار

  • اعلیٰ معاشی کامیابیاں عام شہری تک منتقل ہونا ضروری ہیں، میاں زاہد حسین
شائع January 25, 2026 اپ ڈیٹ January 25, 2026 02:22pm

آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے پاکستان کے حالیہ مجموعی معاشی اشاریوں پر محتاط توقعات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ریکارڈ ساز کارکردگی اور اہم غیر ملکی مالیاتی معاہدوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ حکومت ان اعلیٰ سطح کی کامیابیوں کو مشکلات کا شکار صنعتی شعبے اور عام شہری کے لیے ریلیف میں منتقل کرے۔

میاں زاہد حسین نے کہا موجودہ معاشی منظرنامہ مارکیٹ کی تاریخی بلندیوں اور گہری صنعتی تکلیف کا ایک متضاد مجموعہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ کے ایس ای-100 انڈیکس کا 188,621 پوائنٹس کی تاریخی سطح تک پہنچنا اصلاحاتی ایجنڈے پر سرمایہ کاروں کے پختہ اعتماد اور 26 جنوری کو پالیسی ریٹ میں مزید 1 فیصد کمی کی توقعات کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ حقیقی معیشت کو تاحال مشکلات کا سامنا ہے، جس کا ثبوت مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں 1.174 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے جو کہ گزشتہ سال اسی مدت میں ریکارڈ کیے گئے 957 ملین ڈالر کے سرپلس کے مقابلے میں ایک بڑا الٹ پھیر ہے۔

تجربہ کار کاروباری رہنما نے اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ 603 ملین ڈالر مالیت کے تین بڑے مالیاتی معاہدوں پر دستخط کی تعریف بھی کی۔