ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ہفتے کو نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ان کی بھرپور حمایت اور پاکستان کے موقف پر شکریہ ادا کیا جس میں ووٹنگ کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کے خلاف ووٹ دینا بھی شامل ہے۔
ان خیالات کا اظہار ایرانی وزیر خارجہ نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کو ٹیلی فون کال کے دوران کیا۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دریں اثنا پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی اپنے ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کی تاریخی اور غیر متزلزل حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
اپنی پوسٹ میں انہوں نے ایران کو نشانہ بنانے والی غیر منصفانہ قرارداد کے خلاف مخالفت میں ووٹ دینے پر پاکستان کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اصولی موقف گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کے خلاف بلا اشتعال اور سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی کارروائیوں کی مسلسل تیسری شکست ہے۔ ان کارروائیوں میں (ایران کے خلاف) بارہ روزہ بلا اشتعال جارحیت، ملک کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے غیر ملکی پشت پناہی میں ہونے والے حالیہ فسادات اور بعض اراکین کی جانب سے اپنے من مانے اور معاندانہ ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے بین الاقوامی تنظیموں کا غلط استعمال شامل ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ اس طرح کی ثابت قدم حمایت، انصاف، کثیرالجہتی، انسانی حقوق کے احترام اور قومی خودمختاری کے لیے پاکستان کے دیرینہ عزم کی واضح عکاسی ہے اور اسے انتہائی قدر و منزلت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔