مارکٹس

ماہرین کا نقطہ نظر: پاکستانی فِن ٹیک کمپنیاں بین الاقوامی سطح پر توسیع کیوں نہیں کر پاتیں

  • ایک ماہر کا کہنا ہے کہ پاکستانی فاؤنڈرز اکثر ملکی سطح تک محدود رہتے ہیں اور بین الاقوامی توسیع میں بہت دیر کر دیتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

ملکی معیشت اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے عملی طریقے بتائے ہیں کہ پاکستانی فِن ٹیک کمپنیاں اپنے کاروبار کو بین الاقوامی سطح پر کس طرح بڑھا سکتی ہیں، یعنی وہ آج کیا کمی کر رہی ہیں اور وہ یونیکورن کیوں نہیں بن رہیں۔

بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے سعودی عرب ( کے ایس اے) کی آٹھ کمپنیوں کے بورڈ رکن قیصر نور نے کہا کہ پاکستانی فنانشل ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ملکی سطح پر مضبوط پذیرائی حاصل ہے، لیکن چند ہی بین الاقوامی سطح پر توسیع کرتی ہیں یا یونیکورن قیمت تک پہنچ پاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ”رکاوٹیں صرف کاروباری نہیں بلکہ بنیادی طور پر ساختی ہیں۔“

اپنے خیالات بیان کرتے ہوئے کہ پاکستانی کاروبار بین الاقوامی سطح پر کس طرح مضبوط کیے جا سکتے ہیں، قیصر نور نے کہا کہ مارکیٹ کا حجم اور آمدنی کی حدود محدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ”پاکستان میں 120 ملین سے زائد بالغ افراد ہیں، لیکن ڈیجیٹل پیمنٹس کا استعمال 40 فیصد سے کم ہے، اور فی صارف اوسط آمدنی ایشیا میں سب سے کم ہے۔ زیادہ تر کمپنیاں سالانہ فی صارف پانچ ڈالر سے کم کماتی ہیں، جبکہ بھارت اور انڈونیشیا جیسے مارکیٹوں میں یہ رقم 50 ڈالر سے زائد ہے۔ اس سے کمپنیوں کی قیمت بڑھانے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔“

دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ ”سرمایہ کی دستیاب مقدار ناکافی ہے“۔

”پاکستان میں وینچر فنڈنگ 2021 میں تقریباً 350 ملین ڈالر تک پہنچی تھی، پھر 2023 تک 60 فیصد سے زائد کمی آ گئی۔ اس کے برعکس، بھارت سالانہ مسلسل 10 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کھینچتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر توسیع کے لیے ضروری لیٹ اسٹیج سرمایہ تقریباً موجود نہیں۔“

قیصر نور نے مزید زور دیا کہ پاکستان میں ریگولیٹری ایکسپورٹ ایبلٹی کمزور ہے۔

”کئی پاکستانی پلیٹ فارمز مقامی پیمنٹ سسٹمز اور قوانین کے گرد تیار کیے گئے ہیں۔ یہ کراس بارڈر لائسنسنگ، ڈیٹا لوکلیائزیشن کے تقاضوں، یا کثیر کرنسی سیٹلمنٹ کے لیے تیار نہیں ہیں، جس سے خلیج تعاون کونسل، جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ میں داخلہ محدود ہو جاتا ہے۔“

قیصر نور کے مطابق پاکستان میں عالمی سطح پر مارکیٹ تک رسائی کی صلاحیت موجود نہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ کامیاب یونیکورن کمپنیز ابتدائی مرحلے میں بین الاقوامی قیادت، شراکت داری، اور تعمیل کے نظام میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “پاکستانی فاؤنڈرز اکثر ملکی سطح تک محدود رہتے ہیں اور بین الاقوامی توسیع میں بہت دیر کر دیتے ہیں۔ انہیں اپنی بین الاقوامی قیادت کو فوراً بڑھانے کی ضرورت ہے۔

“ایکو سسٹم سگنلنگ کمزور ہے۔ عالمی سرمایہ کار ان مارکیٹس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جہاں بار بار ایکزیٹس اور بڑے لسٹنگز ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ارب ڈالر کی ٹیکنالوجی ایکزیٹس بہت کم دیکھنے کو ملی ہیں، جبکہ اسٹرائپ (Stripe) جیسی کمپنیاں عالمی ضابطے کے مطابق تیار کردہ مصنوعات اور مضبوط ادارہ جاتی فنڈنگ کے ذریعے ابتدائی مرحلے میں ہی بڑھ چکی تھیں۔

نور نے کہا کہ ”یونیکورن بنانے کے لیے، پاکستانی فِن ٹیک کمپنیوں کو روز اول سے عالمی سطح کے لیے ڈیزائن کرنا ہوگا، بڑے خطّی فنڈز جمع کرنے ہوں گے، بین الاقوامی ریگولیٹرز کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا، اور کم منافع والے ملکی حجم کے بجائے اعلیٰ قدر کے ادارہ جاتی اور کراس بارڈر استعمال کے کیسز کو ہدف بنانا ہوگا۔“

پاکستان کے فِن ٹیک سیکٹر نے ابتدائی مرحلے میں مضبوط رفتار دکھائی ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر توسیع اور یونیکورن پیدا کرنا اب بھی چیلنج ہے۔ اے بی ایچ آئی کے سی ای او اور شریک بانی عمیر انصاری کے مطابق 450 سے زائد فِن ٹیک اسٹارٹ اپس تقریباً 390 ملین ڈالر کے فنڈنگ جمع کر چکے ہیں، لیکن پاکستان اب بھی اپنے خطّے کے ہم منصبوں کے مقابلے میں عالمی سطح پر فِن ٹیک چیمپیئن پیدا کرنے میں پیچھے ہے۔

عمیر انصاری نے کہا کہ ”چیلنج جدت کی کمی نہیں، بلکہ ڈیزائن کے اعتبار سے محدود عالمی پیمانے کی صلاحیت ہے۔ زیادہ تر فِن ٹیکز مقامی مسائل حل کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں بغیر کراس بارڈر تعمیل، بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام، یا کثیر مارکیٹ ریگولیٹری تیاری کے۔“ انہوں نے مزید کہا، ”پاکستان سے باہر توسیع اکثر مہنگی ری بلڈنگ کا تقاضا کرتی ہے، بغیر ہموار نقل کے، جبکہ ڈیجیٹل چینلز اب 88 فیصد ریٹیل ٹرانزیکشنز کو پروسیس کر رہے ہیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور اہم رکاوٹ سرمایہ کی دستیاب مقدار اور سرمایہ کاروں کا خطرہ مول لینے کا رجحان ہے۔

”اگرچہ فِن ٹیک پاکستان میں سب سے زیادہ فنڈ شدہ اسٹارٹ اپ سیکٹرز میں سے ایک ہے، سالانہ فنڈنگ حجم خطّی ایکوسسٹمز کے مقابلے میں کم ہے۔ مثال کے طور پر، سنگاپور نے خطّے کی سرمایہ کاری کا 84 فیصد حصہ حاصل کیا، ادائیگیوں، انشورٹیک، اوراے آئی ڈرائیو اثاثوں میں 725 ملین ڈالر کے معاہدے کیے، جبکہ پاکستان نے 2025 کے پہلے نصف میں صرف 52.5 ملین ڈالر حاصل کیے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”اسی عرصے میں، جنوب مشرقی ایشیا میں فِن ٹیک میں 1.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ میکرو اکنامک غیر یقینی صورتحال، کرنسی کی قدر میں کمی، اور کم مدت کے فنڈنگ رن ویز طویل مدتی ترقی کو مزید محدود کرتے ہیں، جو یونیکورن سطح کے پیمانے کے حصول کے لیے اہم عنصر ہے۔“

اے بی ایچ آئی کے سی ای او نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا فِن ٹیک ایکو سسٹم ابھی بھی ادارہ جاتی شراکت داری اور ایمبیڈڈ فنانس ماڈلز میں بالغ ہو رہا ہے۔ عمیر انصاری کا مزید کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کامیاب فِن ٹیک کمپنیاں صرف صارفین کو حاصل کرنے پر نہیں بلکہ پے رول، سپلائی چینز اور پلیٹ فارمز میں خود کو ضم کر کے بڑھتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ”اے بی ایچ آئی میں ہم ریگولیٹری لحاظ سے تیار شدہ اور مضبوط نظام و قیادت پر مبنی حل فراہم کرنے پر توجہ دیتے ہیں جو جغرافیائی حدود کے پار کام کر سکیں۔“ ریگولیٹری ہم آہنگی اور عالمی معیار کی مصنوعات کے ساتھ، پاکستانی فِن ٹیکز نہ صرف مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں بلکہ شمولیتی مالیاتی انفرااسٹرکچر کی اگلی نسل کو تشکیل دینے کے قابل ہیں۔“

کمپیوٹر سوسائٹی آف پاکستان کے چیئرمین اور اوویکس ٹیکنالوجیز پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طاہر محمود چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستانی فنانشل ٹیکنالوجی کمپنیاں مقامی حدود سے باہر ترقی کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ سب سے پہلے تین بنیادی خلا کو دور کریں: سرمایہ کی دستیاب مقدار، ریگولیٹری وضاحت، اور ہنر و بنیادی ڈھانچے کا امتزاج۔ انہوں نے کہا کہ ”تقریباً 47 فیصد آبادی کے پاس انٹرنیٹ نہیں ہے، ماہر انجینئرز کا ملک سے نکل جانا (برین ڈرین) مہارت یافتہ عملے کو کم کرتا ہے اور کم ڈیجیٹل خواندگی صارفین میں مقبولیت محدود کرتی ہے۔“

یونیکورن بننے کے لیے، چوہدری نے تجویز دی کہ کمپنیاں بڑے سیریز بی/سی راؤنڈز (50 سے 100 ملین ڈالر) حاصل کریں، کراس بارڈر لائسنس سیکیور کریں، اور خطّی بینکوں کے ساتھ شراکت کریں تاکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ جیسے بازاروں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔