پاکستان

مصطفیٰ کمال کا کراچی کو معاشی دارالحکومت کا درجہ اور وفاقی کنٹرول میں دینے کا مطالبہ

  • کراچی کے نوجوان اپنے جائز حقوق حاصل نہیں کر پا رہے، وفاقی وزیر صحت
شائع January 22, 2026 اپ ڈیٹ January 22, 2026 05:55pm

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت سید مصطفیٰ کمال نے جمعرات کے روز مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو صوبے کے بجائے وفاق کے تحت لایا جائے اور اسے پاکستان کا اقتصادی دارالحکومت قرار دیا جائے۔

گل پلازہ سانحے کے حوالے سے پریس کانفرنس میں مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ وہ ماضی کے الزامات سے بلیک میل نہیں ہوں گے اور کراچی کے مسائل پر بات کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ”آئین کی 18ویں ترمیم ملک کے لیے فائدے کی بجائے مسائل پیدا کر رہی ہے، اور اس کے تحت دیے گئے اختیارات شہریوں کی فلاح کے لیے استعمال نہیں ہو رہے۔“ انہوں نے اس ترمیم کو ختم کرنے یا اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفاقی وزیر نے بجلی، پانی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، کوٹہ سسٹم کے تحت روزگار کی کمی اور شہری سہولیات کی عدم دستیابی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق کراچی کے نوجوان اپنے جائز حقوق حاصل نہیں کر پا رہے اور کوٹہ سسٹم عملی طور پر بے اثر ہو چکا ہے۔ انہوں نے شہر میں ”جمہوری دہشت گردی“ کے خاتمے اور شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا، ”چونکہ کراچی پورے ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے اس کے شہریوں کو محفوظ اور باعزت محسوس کرانے کے لیے خصوصی اور منصفانہ سلوک ناگزیر ہے۔“

مصطفیٰ کمال نے پورٹ سٹی میں گل پلازہ کے سانحے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، اور وہ پورے شہر کے غم میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات نے کراچی کے شہریوں کو بار بار صدمے میں ڈالا ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ شہر کا آخری سانحہ ہوگا یا نہیں۔

کراچی کے سابق میئر نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) گزشتہ 18 سال سے سندھ میں اقتدار میں ہے، لیکن کراچی اب بھی بنیادی سہولیات اور تحفظ سے محروم ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ریاست نے شہریوں کو کس کے سپرد کیا ہے اور وہ کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ انہوں نے کہا کہ “کراچی کے لوگ اب بھی انصاف کے لیے ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں۔“

ماضی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی نے طویل عرصے تک بے چینی، قتل و غارت اور نسلی و فرقہ وارانہ تشدد کا سامنا کیا، جہاں لوگ رنگ، نسل، زبان اور فرقے کی بنیاد پر مارے جاتے تھے، جس کے نتیجے میں روزانہ درجنوں جانیں ضائع ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے لوگوں نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، پھر بھی ان کے وطن سے محبت پر سوال اٹھایا جاتا رہا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے موجودہ مسائل کی ذمہ داری کسی ایک پارٹی یا گروپ پر ڈالنے کے نظریے کو مسترد کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر آج عمارتیں غیر محفوظ ہیں، تو کیا یہ تمام ناقص تعمیرات حالیہ برسوں میں ہوئی ہیں، اور کیا سب کچھ ماضی پر الزام دینا درست ہے؟

انہوں نے کہا کہ جو لوگ سچ بولتے ہیں انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے اور پرانے الزامات دباؤ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر وزیر اعظم کراچی کے لیے بڑے اقدامات کرنا چاہیں، تو سیاسی شکایات کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکتے۔