برسوں سے پاکستان کے معاشی پالیسی ساز حلقوں میں یہ تسلیم شدہ نظریہ رہا ہے کہ ملک کی مالی بدحالی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا آغاز اور اختتام بنیادی طور پر ٹیکسوں کی کم وصولی پر ہوتا ہے۔
سابق نگران وفاقی وزیرِ تجارت گوہر اعجاز کی جانب سے پیش کردہ ایک تازہ تجزیہ اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے جسے ماہرینِ معیشت طویل عرصے سے نمایاں کر رہے ہیں: حکومت کے بڑھتے اخراجات بارہا محصولات (ریونیو) میں ہونے والے اضافے سے تجاوز کرگئے ہیں جس کی وجہ سے بلند ٹیکس محض ایک عارضی حل بن کر رہ گئے ہیں جبکہ قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کا اصل چیلنج بنیادی طور پر اخراجات کا بحران ہے جہاں ریاست کے بے لگام اخراجات نہ کہ صرف ٹیکس دہندگان کی ناکامی عوامی قرضوں کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا رہے ہیں اور حکومت کی موجودہ معاشی حکمتِ عملی کی حدود کو بے نقاب کررہے ہیں۔
گوہر اعجاز کی سربراہی میں کام کرنے والے تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ڈیٹا اس تصور کو مکمل طور پر رد کرتا ہے کہ ملک کے مالی مسائل کی جڑ ناکافی ٹیکس وصولی ہے۔ مالی سال 2015 سے 2025 کے درمیان ٹیکس محصولات میں 302 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا جو 2.91 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 11.7 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ یہ نتیجہ مسلسل بڑھائے گئے ٹیکسوں، رعایتوں کی واپسی اور ایک ایسے رجعت پسند ٹیکس نظام کی مرہونِ منت تھا جو معیشت کے پہلے سے دستاویزی اور محدود شعبوں کو بار بار نشانہ بناتا ہے جبکہ وسیع تر حصے ٹیکس کے دائرے سے باہر رہ جاتے ہیں۔ تاہم اگر ٹیکسز کی مسلسل کم وصولی اور غیر دستاویزی معیشت کے غلبے جیسے مسائل جن کی فوری اصلاح بلاشبہ ضروری ہے کو تسلیم کر بھی لیا جائے، تب بھی گزشتہ دہائی کے دوران عوامی قرضوں کی صورتحال یہ واضح کردیتی ہے کہ ہمارا مالی بحران سرکاری اخراجات کی وسعت اور ڈھانچے کی وجہ سے زیادہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ اس عرصے میں عوامی قرضہ 365 فیصد کے ہوشربا اضافے کے ساتھ 17.3 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 80.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا جس نے قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ کیا اور محصولات میں اضافے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
یہ اعدادوشمار پاکستان کے پبلک فنانس کے مرکز میں موجود ایک تشویشناک بگاڑ کو بے نقاب کرتے ہیں، جہاں ٹیکسوں کی مد میں حاصل کیے گئے ہر ایک اضافی روپے کے مقابلے میں 7.2 روپے کا نیا قرض لیا گیا۔ اگر مطلق اعدادوشمار میں دیکھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ٹیکس وصولی میں 8.79 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا جبکہ کل قرضہ 63.2 ٹریلین روپے تک جا پہنچا۔ مزید برآں، حالیہ عرصے میں یہ عدم توازن مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران، مقامی قرضوں پر سود کی ادائیگی اخراجات میں اضافے کے سب سے بڑے ذریعے کے طور پر ابھری ہے، جس نے ترقیاتی اخراجات کو مسلسل محدود کر دیا ہے اور پیداواری سرمایہ کاری کا گلا گھونٹ دیا ہے حالانکہ یہی وہ اخراجات تھے جن کی قرضوں کے اس چکر کو روکنے کے لیے اشد ضرورت تھی۔
قرضوں کا جمع ہونا بذاتِ خود عدم استحکام کا باعث نہیں ہوتا، بشرطیکہ اسے حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیا جائے اور اس سے ایسے بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کی مالی معاونت کی جائے جو ترقی کو فروغ دے، انسانی سرمایہ تیار کرے یا معیشت کی پیداواری صلاحیت کو اس طرح وسعت دے کہ مستقبل میں اس سے منافع حاصل ہو سکے۔ تاہم، پاکستان میں قرضوں کا ایک بڑھتا ہوا حصہ محض ماضی کے واجبات کی ادائیگی (سود اور اصل زر کی واپسی) کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ اور جو تھوڑی بہت گنجائش باقی بچتی ہے اسے دیگر غیر ترقیاتی اخراجات ہضم کر جاتے ہیں: سرکاری محکمے معمول کے مطابق اپنے بجٹ سے تجاوز کرجاتے ہیں، ریاست کے شاہانہ اخراجات کو لگام دینے میں گہری ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے، پنشن کا بل مسلسل بڑھ رہا ہے اور ایک ایسا حکومتی ڈھانچہ موجود ہے جو ساختی طور پر زیادہ اخراجات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ سول انتظامیہ میں ضرورت سے زیادہ عملہ موجود ہے اور اس کا نظم و نسق بہتر نہیں بنایا گیا جبکہ وہ وزارتیں جنہیں 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کردیا جانا چاہیے تھا وہ اب بھی وفاقی سطح پر کام کررہی ہیں، جس سے نااہلی جڑ پکڑرہی ہے اور سرکاری اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔ کفایت شعاری کی مہمات کا اعلان تو بڑے دھوم دھڑکے سے کیا جاتا ہے لیکن فضول خرچیوں کو ختم کرنے یا بامعنی مالیاتی نظم و ضبط نافذ کرنے کے لیے درکار سیاسی عزم کبھی نظر نہیں آیا؛ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اصلاحات محض ظاہری رہتی ہیں جبکہ اندرونی مالیاتی بگاڑ مزید گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اخراجات کو لگام دیے بغیر صرف زیادہ ٹیکسوں پر انحصار جاری رکھنا فارمل (دستاویزی) سیکٹر کو مزید سکیڑنے، برآمدی مسابقت کو کمزور کرنے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کا باعث بنے گا۔ حقیقت واضح ہے: پائیدار معاشی بحالی کا دارومدار قرضوں میں تیزی سے کمی لانے اور حکومت کے اندر جڑ پکڑنے والی فضول خرچی کی ثقافت کو ختم کرنے پر ہے۔ قرضوں، سود کی ادائیگیوں اور محصولات کی کمی کے اس بظاہر نہ ختم ہونے والے چکر کو توڑنا طویل مدتی مالیاتی استحکام کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے اور حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی اخراجاتی نظم و ضبط اور نااہلیوں کی اصلاح پر مبنی ’بامعنی کفایت شعاری‘ ہی آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026