کراچی گل پلازہ آتشزدگی: ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوگئی، 60 افراد تاحال لاپتہ
- سندھ کے آئی جی پی کے مطابق آگ لگنے کی وجہ سرکٹ بریکر معلوم ہوتی ہے
کراچی میں فائر فائٹرز نے پیر کے روز تقریباً 60 لاپتا افراد کی تلاش شروع کر دی، ملک کے سب سے بڑے شہر میں واقع ایک شاپنگ مال میں لگنے والی شدید آگ نے عمارت کو تباہ کر دیا ہے جبکہ اس سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی۔
یہ آگ ہفتہ کی رات شہر کے مصروف کاروباری علاقے میں واقع وسیع و عریض، کثیر منزلہ گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں بھڑک اٹھی تھی جو 24 گھنٹے سے زائد تک جلتی رہی اور گنجان آباد مقام ہونے کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں رکاوٹیں پیش آئیں۔
آگ بجھانے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے اتوار کو کولنگ کا عمل اور ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا، تاہم خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ مزید افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہو سکتے ہیں۔
ریسکیو 1122 سندھ کے ترجمان نے پیر کو بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے جبکہ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ 60 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
فائر فائٹرز کے مطابق 1,200 سے زائد دکانوں پر مشتمل عمارت میں وینٹی لیشن نہ ہونے کے باعث دھواں بھر گیا جس سے متاثرین تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔
سندھ پولیس چیف جاوید عالم اوڈھونے اتوار کو جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر آگ سرکٹ بریکر سے لگی، جبکہ مارکیٹ کا پیچیدہ ڈیزائن اور قالینوں، کمبلوں اور دیگر آتش گیر اشیا کی موجودگی کے باعث آگ مسلسل بھڑکتی رہی۔
اتوار کی شام تک عمارت کے بڑے حصے گر چکے تھے اور سڑکوں پر مڑا ہوا لوہا، ٹوٹا ملبہ، تباہ حال اے سی یونٹس اور دکانوں کے سائن بورڈ بکھرے ہوئے تھے۔ ریسکیو اہلکاروں نے خبردار کیا کہ بچا ہوا ڈھانچہ بھی انتہائی کمزور ہے اور عمارت کا مزید حصہ گرنے کا خطرہ ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق پہلی ایمرجنسی کال ہفتہ کی شب 10 بج کر 38 منٹ پر موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ گراؤنڈ فلور کی دکانوں میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔ فائر بریگیڈ کے پہنچنے تک آگ اوپر کی منزلوں تک پھیل چکی تھی۔
دکانداروں اور مقامی رہائشیوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں تاخیر، پانی کی کمی اور ناکافی آلات نے آگ بجھانے کے کام کو متاثر کیا، جبکہ تاجروں نے دہائیوں پر محیط روزگار کے یکسر راکھ ہو جانے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔