کھیل

پی ایس ایل 11 میں پہلی بار کھلاڑیوں کے معاوضوں میں اضافے کے لیے آکشن ماڈل اپنانے کا فیصلہ

  • ہر فرنچائز کو چار کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت، ہر کیٹیگری سے صرف ایک کھلاڑی ری ٹین کرنے کی
شائع January 19, 2026 اپ ڈیٹ January 19, 2026 01:37pm

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) نے اپنی دہائی مکمل ہونے پر تاریخی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت گیارہویں ایڈیشن کے لیے روایتی ڈرافٹ سسٹم کی جگہ اب کھلاڑیوں کی نیلامی (اوکشن) کا ماڈل اپنایا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد ٹیموں کے درمیان مسابقتی توازن کو بہتر بنانا، شفافیت میں اضافہ اور کھلاڑیوں کے لیے آمدنی کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ پی سی بی نے اس ترقی کو لیگ کی مسلسل نمو اور جدت پسندی کا ثبوت قرار دیا ہے۔

کھلاڑیوں کے حصول کے نئے طریقہ کار کے تحت ہر فرنچائز اب زیادہ سے زیادہ صرف چار کھلاڑی اپنے پاس برقراررکھ سکے گی، جس میں ہر کیٹیگری سے صرف ایک کھلاڑی لینے کی اجازت ہوگی۔

پی سی بی نے واضح کیا کہ اس سے قبل آٹھ کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کی اجازت تھی، جس میں مینٹور، برانڈ ایمبیسیڈر اور رائٹ ٹو میچ جیسے اختیارات شامل تھے، تاہم پی ایس ایل 11 کے لیے یہ تمام پرانے قوانین ختم کر دیے گئے ہیں۔

لیگ کو مزید پرکشش بنانے کے لیے ہر فرنچائز کے لیے کھلاڑیوں کی تنخواہوں کا بجٹ بڑھا کر 16 لاکھ ڈالر کر دیا گیا ہے، تاکہ ایلیٹ ملکی اور غیر ملکی کرکٹرز کو راغب کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ہر ٹیم کو ایک غیر ملکی کھلاڑی براہ راست سائن کرنے کی اجازت ہوگی، بشرطیکہ وہ پی ایس ایل کے دسویں ایڈیشن کا حصہ نہ رہا ہو۔

پی ایس ایل 11 کا باقاعدہ آغاز 26 مارچ سے ہوگا اور اس بار فیصل آباد کو بھی ایک نئے وینیو کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جس سے لیگ کا دائرہ کار مزید وسیع ہو جائے گا۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ نیلامی کے عمل اور شیڈول کے بارے میں مزید تفصیلات جلد شیئر کی جائیں گی۔