کاروبار اور معیشت

پنجاب میں آلو کی وافر پیداوار : کسانوں کا برآمدات کیلئے فوری پالیسی بنانے کا مطالبہ

  • پنجاب میں آلو کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 ملین ٹن کا بڑا اضافہ ہوا ہے
شائع January 14, 2026 اپ ڈیٹ January 14, 2026 01:54pm

اسٹیک ہولڈرز نے پنجاب حکومت سے اپیل کی ہے کہ صوبے میں آلو کی اضافی فصل کھپانے کے لیے برآمدی انتظامات جلد از جلد مکمل کیے جائیں کیونکہ اس سال پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں کم از کم 30 ملین ٹن زیادہ ہے اور تاخیر کسانوں کے مالی دباؤ میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ مطالبہ کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین خان نے پنجاب ایگریکلچر کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سیزن میں پیداوار میں نمایاں اضافے کے باوجود ایک واضح اور بروقت برآمدی پالیسی کی عدم موجودگی کی وجہ سے صوبہ بھر کے آلو کے کاشتکار شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برآمدی پالیسی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے جبکہ کسانوں کا کام صرف زرعی اجناس پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ کسان فصلیں اگا سکتے ہیں لیکن مارکیٹیں کھولنا اور برآمدات میں سہولت فراہم کرنا ریاست کا کام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوری مداخلت کے بغیر کاشتکار مسلسل نقصانات کا شکار رہیں گے۔

سردار ظفر حسین خان نے نشاندہی کی کہ افغانستان کے ساتھ تجارت معطل ہے، جبکہ روسی ریاستوں تک رسائی کے لیے چین کے ذریعے متبادل تجارتی راستے دستیاب ہیں۔انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ایران کے ساتھ تجارت گزشتہ ایک دہائی سے عملی طور پر بند ہے حالانکہ تہران نے اب آلو اور کنو کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔انہوں نے باقاعدہ تجارت کی بحالی میں تاخیر پر سوال اٹھایا۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مقامی قیمتیں مستحکم کرنے کے لیے دبئی کے راستے آلو کے کم از کم 400 کنٹینرز کی فوری برآمد کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا کرنے میں ناکامی کسانوں کو مزید معاشی دلدل میں دھکیل سکتی ہے جس کے مجموعی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آلو اور کنو دونوں کی فصلیں اس وقت بھاری نقصان پر فروخت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو پالیسی سازوں کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026