آٹو ایسوسی ایشن کی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیمیں ضابطے میں لانے کی ستائش
- پاپام کی جانب سے گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں میں اصلاحات کا خیرمقدم ، مقامی آٹو انڈسٹری کے لیے بڑی کامیابی قرار
پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں کو ضابطے میں لانے کے حکومتی فیصلے کی بھرپور تائید کی ہے۔ ایسوسی ایشن نے اس اقدام کو مقامی صنعت کے تحفظ، سرمایہ کاری کے فروغ اور قومی معیشت کی بحالی کی جانب ایک کلیدی سنگ میل قرار دیا ہے۔
پاپام کے مطابق برسوں سے پرسنل بیگیج، ٹرانسفر آف ریزرویشن اور گفٹ اسکیموں کا تجارتی مقاصد کے لیے غلط استعمال کیا جا رہا تھا،جس سے سالانہ تقریباً 40 ہزار گاڑیاں درآمد ہو رہی تھیں۔ اس عمل سے نہ صرف زرمبادلہ کا نقصان ہو رہا تھا بلکہ مقامی مینوفیکچررز اور روزگار کو بھی خطرات لاحق تھے۔
جنوری 2026 سے نافذ العمل نئی پالیسی کے تحت ’پرسنل بیگیج‘ اسکیم ختم کر دی گئی ہے، جبکہ دیگر اسکیموں کو صرف سمندر پار پاکستانیوں کے لیے محدود کر دیا گیا ہے۔ اب صرف تین سال تک پرانی گاڑیاں درآمد ہو سکیں گی، جن کے لیے ترسیلاتِ زر کے شفاف ذرائع اور ایک سال تک عدم منتقلی کی شرط لازمی ہوگی۔
چیئرمین پاپام عثمان اسلم ملک اور سینئر وائس چیئرمین شہریار قادر نے اس پالیسی کو مقامی صنعت کی بقا اور منصفانہ مقابلے کی فضا قائم کرنے کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔