کاروبار اور معیشت

حکومت کا پورٹ قاسم پر 14,590 ایکڑ پر محیط انڈسٹریل کمپلیکس قائم کرنے کا اعلان

  • انڈسٹریل کمپلیکس تین زونز میں تقسیم ،جس میں نارتھ ویسٹرن زون، ایسٹرن زون اور ساؤتھ ویسٹرن زون شامل ہیں ، وفاقی وزیر بحری امور
شائع January 12, 2026 اپ ڈیٹ January 12, 2026 06:18pm

حکومت نے پیر کو پورٹ قاسم پر پورٹ انڈسٹریل کمپلیکس قائم کرنے کا طویل مدتی ماسٹر پلان جاری کیا ہے۔ اس منصوبے سے پاکستان کی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے، برآمدات میں اضافے اور علاقائی تجارت و لاجسٹک مرکز کے طور پر بندرگاہ کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کی توقع ہے۔

اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے پورٹ انڈسٹریل کمپلیکس کے وژن کا خاکہ پیش کرنے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس پلان کا اعلان کیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ پورٹ قاسم کی مربوط منصوبہ بندی اور مرحلہ وار ترقی کا مقصد اسے عالمی سطح پر مسابقتی صنعتی اور لاجسٹک حب بنانا ہے، جو کہ پاکستان کی تجارت میں توسیع، صنعت کاری اور ’بلیو اکانومی‘ (آبی معیشت) کی ترقی کے وسیع تر مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔

جنید انور چوہدری نے مزید کہا کہ پورٹ قاسم کا یہ کلائمیٹ ریزیلیئنٹ(موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والا) صنعتی مرکز اگلی دو دہائیوں میں دسیوں ارب ڈالر کے معاشی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔اس سے پاکستان کی صنعتی بنیاد مضبوط ہوگی، برآمدات بڑھیں گی، لاکھوں ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ملک ایک مسابقتی علاقائی تجارتی اور صنعتی مرکز کے طور پر ابھرے گا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پائیداری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت پر توجہ دینے سے مستقبل کے ماحولیاتی اور معاشی خطرات کم ہوں گے، جس سے طویل مدتی سرمایہ کاری کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

جنید چوہدری نے بتایا کہ یہ ماسٹر پلان 14,590 ایکڑ سے زائد رقبے پر محیط ہے، جسے پانچ دہائیوں پر محیط متوازن صنعتی ترقی، بندرگاہ کے موثر آپریشنز اور زمین کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طویل مدتی منصوبہ بندی کا فریم ورک پالیسیوں کے تسلسل، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور معاشی استحکام کے لیے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

بحری امور کے وزیر نے بتایا کہ اس انڈسٹریل کمپلیکس کو تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں نارتھ ویسٹرن زون، ایسٹرن زون اور ساؤتھ ویسٹرن زون شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نارتھ ویسٹرن زون، جو 3,061 ایکڑ پر محیط ہے متنوع صنعتی سرگرمیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جہاں ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ اور بندرگاہ کے آپریشنز سے منسلک ذیلی خدمات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسٹرن زون 7,273 ایکڑ کے ساتھ اس کمپلیکس کا سب سے بڑا حصہ ہے جسے بنیادی صنعتی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جہاں بھاری صنعتوں، برآمدی یونٹس اور لاجسٹک سہولیات کے لیے جگہ فراہم کی گئی ہے۔

جنید انور چوہدری نے مزید بتایا کہ ساؤتھ ویسٹرن زون، جو 2,258 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے مخصوص صنعتی اور تجارتی مقاصد کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ 1,997 ایکڑ کے نشیبی علاقے کو مرحلہ وار ترقی اور ماحولیاتی تحفظات کے ذریعے پائیدار استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

آپریشنل صلاحیت پر روشنی ڈالتے ہوئے جنید چوہدری نے کہا کہ پورٹ قاسم پر اس وقت 833 یونٹس کام کر رہے ہیں جو کہ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاروں کی مسلسل دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ 40 یونٹس زیر تعمیر ہیں جو بندرگاہ کے مستقبل میں مزید توسیع اور اعتماد کا اشارہ ہیں۔

انہوں نے کہا یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ پورٹ قاسم محض ایک بحری سہولت نہیں، بلکہ ایک جیتا جاگتا صنعتی ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) ہے جو مسلسل ترقی کر رہا ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا، ”ہمارا وژن پورٹ قاسم کو ایک ایسے علاقائی مرکز کے طور پر کھڑا کرنا ہے جو بین الاقوامی معیار پر پورا اترے اور پاکستان کی معاشی تبدیلی میں بھرپور کردار ادا کرے۔“