شوگر ملز ایسوسی ایشن کا حکومت سے گنے کے بھاری ڈیویلپمنٹ سیس میں کمی کا مطالبہ
- پی ایس ایم اے کا فنڈز کے غلط استعمال اور سیلز ٹیکس کے بھاری بوجھ پر احتجاج ، گنے کے ترقیاتی سیس میں کمی کی اپیل
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گنے پر عائد ’شوگرکین ڈیویلپمنٹ سیس (ایس ڈی سی) میں فوری کمی کر کے اسے دیگر صوبوں کے برابر لایا جائے، کیونکہ موجودہ شرح سے چینی کی پیداواری لاگت میں اضافہ اور صنعت کے مالی نقصانات میں شدت آ رہی ہے۔
ترجمان پی ایس ایم اے کے مطابق یہ سیس ملوں اور کاشتکاروں سے برابر وصول کیا جاتا ہے جس کا مقصد ملوں تک پہنچنے والے راستوں کی تعمیر، پلوں کی مرمت اور گنے کی تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ تاہم کاشتکاروں کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ پنجاب میں یہ ٹیکس دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، مگر ضلعی حکومتیں ان فنڈز کو سڑکوں کی حالت بہتر بنانے پر خرچ نہیں کر رہیں، جس سے نقل و حمل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ پاکستان میں چینی پر ٹیکس کا بوجھ عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے، پاکستان میں سیلز ٹیکس 18 فیصد ہے جبکہ بھارت میں محض 5 فیصد ہے۔ حالیہ برسوں میں مہنگے درآمدی کیمیکلز، بلند شرح سود اور کم از کم اجرت میں اضافے نے چینی بنانا مزید مہنگا کر دیا ہے۔ پی ایس ایم اے نے زور دیا کہ سندھ اور خیبر پختونخوا کی طرز پر پنجاب میں بھی اس لیوی کو کم کر کے کسانوں اور شوگر ملوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔