ٹوکن سازی پاکستان کے لیے گیم چینجرثابت ہوگی
- ٹوکن سازی حساس ڈیٹا یا مادی اثاثوں کو منفرد ڈیجیٹل شکل میں ڈھالنے کا عمل ہے ، قیصر نور
ٹوکنائیزیشن(اثاثوں کی ٹوکن سازی)کے ذریعے حقیقی دنیا کے اثاثوں یا ڈیٹا کو بلاک چین پر ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کیا جاتا ہے، یہ پاکستان کے لیے تقدیر بدل دینے والا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر اسے ملکی نظام کی سطح پر نافذ کیا جائے تو یہ کئی دیرینہ معاشی مسائل حل کر سکتا ہے۔
یہ بات سعودی عرب میں 8 مختلف اداروں کے بورڈ ممبر اور کتاب ”دی کنگڈم تھرو مائی آئیز! ویژن 2030“ کے مصنف قیصر نور نے بزنس ریکارڈر کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ٹوکن سازی دراصل حساس ڈیٹا یا مادی اثاثوں کو ایک منفرد ڈیجیٹل شکل میں ڈھالنے کا عمل ہے، تاکہ ان کی محفوظ طریقے سے پروسیسنگ، ذخیرہ اندوزی یا منتقلی ممکن ہو سکے۔
قیصر نور کا مزید کہنا تھا کہ ٹوکن سازی پاکستان کے ان اثاثوں کی چھپی ہوئی قدر (ویلیو) کو متحرک کر سکتی ہے جو اس وقت معیشت میں اپنا حصہ نہیں ڈال پا رہے، جیسے کہ زمین، واجب الوصول رقوم، اجناس، معدنی ذخائر اور بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) سے حاصل ہونے والی آمدن۔ان اثاثوں کو تصدیق شدہ ڈیجیٹل اکائیوں میں تقسیم کر کے ان کی باقاعدہ تجارت کی جا سکے گی، انہیں ضمانت کے طور پر رکھوایا جا سکے گا یا ان کی جزوی ملکیت (فریکشنل اونرشپ) حاصل کرنا ممکن ہوگا۔
پاکستان کی غیر رسمی معیشت کا حجم رسمی معیشت کے 30 سے 50 فیصد کے برابر ہے اور بہت سے اثاثے بینکنگ نظام سے باہر ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری کے قابل نہیں۔ ٹوکن سازی اس نظام میں معیاری ڈیٹا اور خودکار قوانین (جیسے کہ شناختی تصدیق اور منی لانڈرنگ کے خلاف قواعد) کو شامل کرتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں اور قرض دینے والے اداروں کا اعتماد بڑھتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کو پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پاکستان کی ترسیلاتِ زر 2023 میں 26.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 34.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ ٹوکن سازی پر مبنی سرمایہ کاری کی مصنوعات ان رقوم کے ایک بڑے حصے کو صرف روزمرہ اخراجات کے بجائے بڑے انفرااسٹرکچر منصوبوں کی طرف موڑ سکتی ہیں۔
مزید برآں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی جیسے ادارے جہاں زمین کا ریکارڈ پہلے ہی ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے وہاں ٹوکن سازی کے ذریعے زمین کے تنازعات کو کم کیا جا سکتا ہے اور جائیداد کے عوض قرضوں کا حصول تیز ہو سکتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے ریکارڈ کی شفافیت بڑھے گی اور ایک ہی جائیداد کو کئی جگہ رہن رکھنے جیسے دھوکہ دہی کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔
قیصر نور نے مزید نشاندہی کی کہ ٹوکن سازی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے نقد رقم کی دستیابی کا مسئلہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل آڈٹ ٹریل کے ذریعے کرپشن اور ریکارڈ میں ردو بدل کا راستہ بھی روک سکتی ہے۔ سعودی عرب اپنے ”ویژن 2030“ کے تحت رئیل اسٹیٹ کی ٹوکن سازی کو معاشی استحکام کے ایک ستون کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اس کے لیے ایک قومی بلاک چین انفرااسٹرکچر بھی قائم کر چکا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب میں رائج جی سی سی معیار کا یہ ماڈل سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مخصوص مصنوعات کے ذریعے پاکستان میں بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے، جو ملکی سرمایہ کاری کے ماحول کو جدید بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔