ڈیجیٹل دہشت گردی کیس : وجاہت سعید، عادل راجہ اور دیگر کو عمر قید کی سزا
- استغاثہ کی درخواست پر ملزموں کی عدم موجودگی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ٹرائل مکمل کر لیا
وفاقی دارالحکومت کی انسدادِ دہشت گردی عدالت(اے ٹی سی)نے 9 مئی کے ڈیجیٹل دہشت گردی کیس میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کے جرم میں پانچ معروف شخصیات کو سخت قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔
جج طاہر عباس سپرا نے جمعہ کوعادل راجہ، حیدر مہدی اور وجاہت سعید خان کو دہری عمر قید کی سزا سنائی۔ اسی طرح صابر شاکر اور معید پیرزادہ کو بھی دہری عمر قید کی سزا کا حکم دیا گیا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق مجرموں کو مختلف قانونی دفعات کے تحت مجموعی طور پر 35 سال قید اور فی کس 15 لاکھ روپے جرمانے کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔
یہ ٹرائل استغاثہ کی درخواست پر ملزمان کی عدم موجودگی میں مکمل کیا گیا جبکہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے عدالت نے ملزمان کے لیے دفاعی کونسل مقرر کی تھی۔ ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے 9 مئی کے ہنگاموں کے دوران ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کو ریاستی اداروں کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو منظم کرنے اور اکسانے کے لیے استعمال کیا۔
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے ایک ہفتہ قبل ہی سابق میجر عادل راجہ کو دہشت گردی کے انسداد کے قانون (اے ٹی اے) کے تحت کالعدم قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کی تھی۔ پاکستان نے 4 دسمبر 2025 کو برطانیہ کو عادل راجہ کی حوالگی کے لیے باضابطہ کاغذات بھی فراہم کیے تھے، جن میں لندن سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ متعدد مقدمات میں مطلوب یوٹیوبر کو فوری طور پر واپس بھیجا جائے۔
قانونی ماہرین اس فیصلے کو ڈیجیٹل اسپیس کے ذریعے ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے والوں کے لیے ایک سخت انتباہ اور اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔