پاکستان

10 اہم موضوعات جو 2025 میں شہ سرخیوں میں چھائے رہے

  • بھارت کے ساتھ کشیدگی سے لے کر سونے تک، اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے توجہ تک، گزشتہ سال کے نمایاں موضوعات پر ایک نظر
شائع January 1, 2026 اپ ڈیٹ January 1, 2026 07:33pm

2025 کے دوران، پاکستان نے شدید معاشی دباؤ، سیاسی غیر یقینی صورتحال، سکیورٹی خدشات اور موسمی چیلنجز کا سامنا کیا، جو سب ایک ساتھ سامنے آئے۔

جیسے ہی سال اختتام کو پہنچا، ہم ایک نظر ماضی پر ڈالتے ہیں۔ یہاں 10 نمایاں موضوعات پیش کیے جا رہے ہیں جنہوں نے خبروں پر غلبہ حاصل کیا:

1. پاکستان، بھارت فضائی تصادم
مئی میں جوہری صلاحیت رکھنے والے دونوں پڑوسیوں کے درمیان فضائی تصادم کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہوئے۔

یہ بحران مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں ایک خونریز مسلح حملے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں شروع ہوا اور جلد ہی بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیوں میں بدل گیا، جس میں دونوں جانب سے فضائی حملے اور جوابی حملے کیے گئے، ڈرونز، میزائلز اور لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا گیا، جس سے تجارتی ہوا بازی متاثر ہوئی اور کئی دنوں کے لیے فضائی حدود بند رہیں۔

2. سونا
2025 میں پاکستان کے اثاثہ جات کے منظرنامے پر سونے نے غلبہ قائم رکھا، کیونکہ ملکی اور بین الاقوامی قیمتوں میں سال بھر تیز اضافہ دیکھا گیا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سونے نے روپے کی بنیاد پر شاندار 73 فیصد منافع دیا، قیمتیں سال کے آغاز میں 10 گرام کے لیے 233,711 روپے سے بڑھ کر دسمبر کے آخر تک 10 گرام کے لیے 405,402 روپے تک پہنچ گئیں۔

3. 27ویں آئینی ترمیم
نومبر 2025 میں پاکستان نے اپنی آئین میں 27ویں ترمیم پاس کی، جس نے ملک کے عدالتی اور عسکری ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔

اس قانون کے تحت ایک نیا وفاقی آئینی عدالت قائم کیا گیا تاکہ آئینی مقدمات نمٹائے جا سکیں، جس سے یہ اختیارات سپریم کورٹ سے منتقل ہو گئے۔

ترمیم نے عسکری قیادت کے نظام کو بھی دوبارہ منظم کیا، چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ قائم کیا، فوج، بحریہ اور فضائیہ کے کمانڈ کو باضابطہ طور پر یکجا کیا، اور آرمی چیف کو عمر بھرکے لئے قانونی تحفظ اور اعلیٰ مرتبہ فراہم کیا۔

ان تبدیلیوں نے شدید سیاسی بحث اور تنقید کو جنم دیا، مخالفین نے خبردار کیا کہ اس سے عدالتی آزادی کمزور ہو سکتی ہے اور شہری اداروں اور فوج کے درمیان توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

4. مستقل سکیورٹی کے چیلنجز
2025 میں پاکستان کو شدت پسند گروپوں اور سرحد پار تشدد سے سنگین سکیورٹی خطرات کا سامنا رہا، خاص طور پر افغانستان کے ساتھ مغربی سرحدوں پر۔

ان حملوں میں خودکش دھماکے اور مسلح حملے شامل تھے، جن کے نتیجے میں کئی سکیورٹی اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) اور دیگر سرحد پار کام کرنے والے باغی گروپوں کے جاری خطرات، پولیس اور فوجی یونٹس پر کثرت سے ہونے والے حملوں کے ساتھ، پاکستان کی سکیورٹی کے مستقل چیلنج کو اجاگر اوراس سے نمٹنے کے لیے مسلسل عسکری نگرانی کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔

5. موسمی بحران اور انسانی ہمدردی کے مسائل
پاکستان کو موسمی بحران کے سب سے شدید اثرات کا سامنا کرنا پڑا، جہاں انتہائی موسمی حالات نے وسیع پیمانے پر انسانی مشکلات پیدا کیں۔ طویل اور شدید مون سون بارشوں نے تباہ کن سیلاب پیدا کیے، جن سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے، 2 ملین سے زائد افراد بے گھر ہوئے، اور گھروں، بنیادی ڈھانچے اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچا۔

6. پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری
پی آئی اے، جو بھاری قرض، ناقص انتظام اور سروس کے معیار میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی تھی، بالاخر اس سال نجی شعبے کو منتقل کر دی گئی۔

دسمبر میں، عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ایئر لائن میں 75 فیصد حصص خریدے۔ حکومت پاکستان کو 135 ارب روپے میں سے 10.12 ارب روپے نقد ملیں گے، جبکہ باقی رقم پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کی جائے گی۔

7. پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس)
عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ پاکستان انویسٹمنٹ اسٹریٹیجی 2026: دی ایکویٹی ایج کنٹینیوز کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج 2026 میں بہترین کارکردگی دکھانے والی اثاثہ جاتی کلاس رہنے کی توقع تھی، جس کی حمایت معاشی استحکام میں بہتری، مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور مسلسل ملکی لیکویڈیٹی نے کی۔

رپورٹ نے معاون معاشی ماحول کو اجاگر کیا، جس میں مہنگائی میں کمی، مستحکم کرنسی، غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور قابلِ انتظام موجودہ کھاتے کا خسارہ شامل ہیں۔

8. پاکستان اور سعودی عرب نے تاریخی معاہدہ کیا
ستمبر میں، پاکستان اور سعودی عرب نے بدھ کو ایک تاریخی “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ” پر دستخط کیے، جو پاکستان کی جغرافیائی سیاسی حیثیت کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اس معاہدے کے تحت، پاکستان یا سعودی عرب کے خلاف کوئی بھی جارحیت دونوں ریاستوں کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی، جس سے مشترکہ روک تھام کی صلاحیتیں بڑھیں گی۔

دونوں رہنماؤں نے باہمی مفادات اور اسلامی یکجہتی کے تناظر میں اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کرنے کے عزم کی تصدیق کی۔


9. ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کا بار بار ذکر
2025 میں، بھارت کے ساتھ فضائی تصادم کے بعد پاکستان عالمی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں اکثر بات کی، اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے مئی کے تصادم کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان مکمل جنگ کو روکنے میں مدد دی۔

ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت، بشمول آرمی چیف، کی تعریف کی کہ انہوں نے کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا، اور پاکستانی عوام کو “ذہین لوگ” قرار دیتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کے بڑھنے کی صلاحیت کی تعریف کی۔


10. لیبیا کے ساتھ ہتھیاروں کا معاہدہ
پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی کو فوجی ساز و سامان فروخت کرنے کے لیے 4 ارب ڈالر سے زائد کا معاہدہ کیا۔

رائٹرز کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی سب سے بڑی ہتھیاروں کی فروخت میں سے ایک ہے، اور پاکستان کے فوجی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور لیبیا کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف صدام خلیفہ حفتر کے درمیان بنغازِی میں ملاقات کے بعد حتمی شکل دی گئی، جس کی تصدیق چاروں حکام نے کی۔


مجموعی طور پر، 2025 پاکستان کے لیے چیلنجز اور اسٹریٹجک پیش رفت کا سال رہا۔

بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی، موسمی آفات، اقتصادی اصلاحات اور مضبوط بین الاقوامی تعلقات کے درمیان پاکستان نے کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا کیا۔

تاہم، یہ واقعات پاکستان کی مزاحمت اور پیچیدہ علاقائی و عالمی حالات میں سمت تلاش کرنے کی کوششوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔