پاکستان فوڈ پانڈا کی سب سے بڑی عالمی گروسری مارکیٹ بن گیا ، منتقہ پراچہ
- ملک میں آن لائن گروسری کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، سی ای او فوڈ پانڈا پاکستان کا انٹرویو
منتقہ پراچہ فوڈ پانڈا پاکستان کے سی ای او ہیں۔وہ جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویٹ اور 15 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں۔انہوں نے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل سلوشنز کو تیار، نافذ، منظم اور تجارتی بنایا ہے۔انہوں نے عالمی ٹیکنالوجی لیڈرز جیسے اداروں آئی بی ایم اور این سی آر کے ہمراہ کام کے ساتھ ساتھ مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بھی تجربہ حاصل کیا ہے۔ منتقہ پراچہ کا پیشہ ورانہ فوکس حقیقی دنیا کے پیچیدہ مسائل کے حل پر ہے جس میں کم وسائل والے علاقوں میں بینکنگ، صحت کی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانا ، آخری میل کی ڈیلیوری نیٹ ورکس کو ڈیجیٹل اور بہتر بنانا شامل ہے۔
مندرجہ ذیل میں بی آر ریسرچ کے ساتھ ان کی حالیہ گفتگو کے منتخب اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں
بی آر آر : پاکستان میں 2025 کا سال فوڈ پانڈا کے لیے کیسا رہا اور پچھلے ایک یا دو سال میں کاروبار کس طرح ترقی پایا؟
منتقہ پراچہ: 2025 فوڈ پانڈا کے لیے پاکستان میں اچھا سال رہاجبکہ 2023 بہت مشکل سال تھا، زیادہ مہنگائی، سود کی بڑھتی شرحیں اور گھریلو آمدنی پر دباؤ نے مارکیٹ کی رفتار سست کر دی تھی۔ ہم نے وقتی ترقی کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اس عرصے میں آپریشنز کی بہتری، پراسیسز اور ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کی۔یہ سرمایہ کاری 2024 میں پھل لانے لگی اور 2025 میں واضح نتائج دکھائے۔ جیسے ہی معیشت مستحکم ہوئی اور صارفین کی خریداری کی صلاحیت بڑھی تو آرڈر کرنے کے رجحانات معمول پر آ گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ٹاپ 20 فیصد صارفین نے سخت حالات میں بھی مستقل آرڈر دیے اور 2025 میں درمیانے اور کم آمدنی والے طبقوں میں بھی مضبوط بحالی دیکھنے کو ملی۔
انہوں نے بتایا کہ کاروباری ڈھانچے میں ہم نے آپریشنل ایکسیلنس اور سبسکرپشنز پر زور دیا۔ ہمارا پانڈا پرو پروگرام اب پلیٹ فارم کا مرکزی ستون بن چکا ہے اور تقریباً 30 فیصد آرڈرز کا حصہ ہے۔ ہم نے اسے سہ ماہی ”پرو ویکس“ کے ساتھ منظم کیا ہے، جس سے ڈیلیوری فیس کے مسائل کم ہوتے ہیں اور صارفین کی عادت پیدا ہوتی ہے۔
بی آر آر : پاکستان میں فوڈ ڈیلیوری کے مقابلے کا رجحان کیسا ہے، خاص طور پر جب بہت سے ایپس مارکیٹ سے غائب ہو چکے ہیں؟
منتقہ پراچہ : مارکیٹ میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ کئی سرمایہ دارانہ کمپنیاں پاکستان میں آئیں، مگر زیادہ تر نے یہ اندازہ نہیں لگایا کہ بڑے پیمانے پر پائیدار پلیٹ فارم بنانا کتنا مشکل ہے۔ طویل سرمایہ کاری، منظم عملدرآمد اور تجربہ کار قیادت کے بغیر یہ مشکل ہے۔ کچھ مقابل کمپنیوں نے قیمتوں میں کمی کی دوڑ میں پھنس کر مفت ڈیلیوری اور بھاری سبسڈیز دیں۔ ہم نے پائیداری پر فوکس کیا اور مناسب ڈیلیوری چارجز رکھے، کیونکہ طویل مدت میں اعتماد بھروسے سے آتا ہے، تحائف سے نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گروسری سیکٹر میں مقابلہ اب بھی جاری ہے، خاص طور پر کراچی میں یہ زیادہ ہے۔ مقابل کمپنیوں کی موجودگی سے مارکیٹ بڑھتی ہے، صرف شیئر منتقل نہیں ہوتا۔ پاکستان ایک منفرد مارکیٹ ہے جہاں 1990 کی دہائی سے فوڈ ڈیلیوری فون کے ذریعے موجود تھی، جدید چیلنج ریسٹورنٹس کو قائل کرنا ہے کہ پروفیشنل، ٹیکنالوجی سے لیس پلیٹ فارم چھوٹے ان ہاؤس فلیٹس سے زیادہ ویلیو دیتا ہے۔
بی آر آر: فوڈ پانڈا دیگر فوڈ ڈیلیوری اور کوئیک کامرس پلیٹ فارمز سے کیسے مختلف ہے؟
منتقہ پراچہ : اعتماد اور بھروسہ ہماری سب سے بڑی پہچان ہے۔ صارفین چاہتے ہیں کہ ان کا کھانا تازہ، وقت پر اور بالکل جیسا آرڈر کیا ویسا ہی آیا ہو۔ یہ معیار برقرار رکھنا مشکل ہے۔کاروباری سطح پر فوڈ پانڈا نے مضبوط ایڈ ٹیک اور ڈیٹا کیپبلیٹیز بنائی ہیں۔ مثال کے طور پر ایف ایم سی جی برانڈز کے لیے ہم قابلِ پیمائش مارکیٹنگ فراہم کرتے ہیں۔ اگر کوئی برانڈ فوڈ پانڈا کے ذریعے سیمپل تقسیم کرے، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس کس صارف تک پہنچی اور آیا انہوں نے بعد میں دوبارہ خریدا یا نہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم صرف لاجسٹکس پلیٹ فارم نہیں ہیں، بلکہ ڈیٹا ڈرائیو صارف انگیجمنٹ اور مارکیٹنگ چینل بھی ہیں۔
بی آر آر: فوڈ ڈیلیوری اور پانڈامارٹ میں سے کون سا شعبہ زیادہ ریونیو پیدا کرتا ہے؟
منتقہ پراچہ : فوڈ ڈیلیوری کاروبار کی بنیاد ہے، مگر کوئیک کامرس (پانڈامارٹ) تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ آج گروسری تقریباً ایک تہائی کاروبار کی نمائندگی کرتی ہے اور ہمارا مقصد اسے اسی سطح پر برقرار رکھنا ہے۔
بی آر آر : کوئیک کامرس (پانڈامارٹ) فوڈ پانڈا کی مجموعی حکمت عملی میں کتنا اہم ہے؟
منتقہ پراچہ: پاکستان اس وقت فوڈ پانڈا کی سب سے بڑی گروسری مارکیٹ ہے، سنگاپور اور تائیوان سمیت تمام 11 ممالک میں جہاں ہم کام کرتے ہیں اس نے عالمی انتظامیہ کی توجہ پاکستان پر مرکوز کر دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بڑے منظم قومی ریٹیل چینز کی کمی ہے۔ زیادہ تر چینز کے 35 سے کم اسٹورز ہیں۔ ہم نے اس خلا کو پر کیا ہے، آج فوڈ پانڈا 45 سے 50 پانڈامارٹ اسٹورز چلا رہا ہے، جو اسے ملک کی سب سے بڑی گروسری چین بناتا ہے۔
بی آر آر: کیا عالمی یا مقامی سطح پر انڈسٹری میں کسی قسم کا انضمام ہو رہا ہے؟
منتقہ پراچہ: عالمی سطح پر انضمام ہو رہا ہے، جیسے ہیرو ،اوبر اور ڈور ڈیش ڈیلیوری اب زیادہ تر مارکیٹ کنٹرول کرتے ہیں۔ پاکستان گروسری کے میدان میں ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اگلے 15–20 شہروں میں بہت ترقی کی گنجائش موجود ہے۔
بی آر آر: رائیڈر کی حفاظت، کمائی اور بہبود کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
منتقہ پراچہ: ہم سمجھتے ہیں کہ ماحولیاتی حالات، جیسے دھند اور سردی، مشکلات ہیں۔ ہم مالی شمولیت فراہم کرتے ہیں۔ ہر ماہ 40,000 سے زائد رائیڈرز ہمارے پلیٹ فارم پر کام کرتے ہیں اور تمام ادائیگیاں بینک یا ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہوتی ہیں۔
ہم یقینی بناتے ہیں کہ 100 فیصد کسٹمر ٹپس براہِ راست رائیڈرز کو جائیں، فوڈ پانڈا ٹرانزیکشن چارجز برداشت کرتا ہے۔
بی آر آر : فوڈ پانڈا ایک پیچیدہ مارکیٹ پلیس ہے، اسے منظم کرنا کیا منفرد بناتا ہے؟
منتقہ پراچہ: فوڈ پانڈا تین طرفہ مارکیٹ پلیس ہے جس میں کسٹمر، رائیڈر اور وینڈر شامل ہیں۔ یہ رائیڈ ہیلنگ جیسے دو طرفہ پلیٹ فارمز سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
بی آر آر :اے آئی اور ڈیٹا اینالیٹکس پلیٹ فارم میں کس طرح استعمال ہو رہی ہیں؟
متقہ پراچہ: اے آئی صرف کسٹمر سپورٹ تک محدود نہیں بلکہ وہ کو ڈیولپر کی طرح کام کرتی ہے۔ فیچرز جو دو مہینے لگتے تھے اب تقریباً 10 دن میں لانچ ہو جاتے ہیں۔اے آئی رائیڈرز اور وینڈرز کے درمیان سپلائی اور ڈیمانڈ کو حقیقی وقت میں توازن دیتی ہے۔
بی آر آر : فِن ٹیک فوڈ پانڈا کے ایکو سسٹم اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں کتنی اہم ہے؟
منتقہ پراچہ: فِن ٹیک ہمارے مشن کا مرکز ہے۔ آج تقریبا 50 فیصد جی ایم وی آن لائن ادائیگیوں کے ذریعے ہوتا ہے، جو حالیہ برسوں میں چار گنا بڑھ گیا ہے۔ ہر پارٹنر کو بینکنگ چینلز استعمال کرنا لازمی ہے، جس کے اثرات خواتین ہوم شیفس پر بھی پڑتے ہیں، جو پہلی بار دستاویزی آمدنی کماتی ہیں۔
بی آر آر: کسٹمر شکایات اور ریفنڈز کیسے منظم کیے جاتے ہیں؟
منتقہ پراچہ: رفتار اور شفافیت سب سے اہم ہیں۔ اسی لیے فوری والٹ ریفنڈز دیے جاتے ہیں۔
بی آر آر : گیگ اکانومی پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
منتقہ پراچہ: ریگولیشن ضروری ہے، مگر سوچ سمجھ کر اور مستقل ہونی چاہیے۔
بی آر آر : فوڈ پانڈا کی عالمی موجودگی اور پاکستان کی پوزیشن پر مختصر تبصرہ کیجئے؟
منتقہ پراچہ: فوڈ پانڈا 11 مارکیٹس میں کام کرتی ہے۔ پاکستان گروپ کی سب سے بڑی گروسری مارکیٹ ہے اور کوئیک کامرس میں مضبوط ترقی کی کہانی ہے۔
بی آر آر: 2026 کے لیے آپ کی اہم ترجیحات کیا ہیں؟
منتقہ پراچہ: ہماری تین واضح ترجیحات ہیں جس میں پانڈامارٹ کی 13 شہروں تک توسیع ، 50 سے زائد اسٹورز تک پہنچانا ، فوڈ ڈیلیوری میں وسعت ، فِن ٹیک لانچز جیسے پوسٹ پیڈ (بی این پی ایل) اور ممکنہ کو برانڈڈ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ شامل ہیں۔
بی آر آر: فوڈ پانڈا کی فوڈ ڈیلیوری سے آگے کی حیثیت کیا ہے؟
منتقہ پراچہ : ہمارا مقصد محض ایک عام سوپر ایپ بننا نہیں بلکہ فوڈ پانڈا کو ایک مکمل لائف اسٹائل ایپ کے طور پر ترقی دینا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ صارفین کی روزمرہ ضروریات کو مرکزِ نگاہ بنایا جائے اور انہی شعبوں میں گہرائی کے ساتھ کام کیا جائے جن کی طلب مسلسل رہتی ہے۔اسی وژن کے تحت ہم ہیلتھ اینڈ بیوٹی، فارمیسی، تازہ گوشت (فریش میٹ) اور چند منتخب کارپوریٹ سروسز پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکمتِ عملی یہ ہے کہ بہت زیادہ شعبوں میں پھیلنے کے بجائے چند اہم اور روزمرہ استعمال کی کیٹیگریز میں غیر معمولی معیار اور سہولت فراہم کی جائے۔سادہ الفاظ میں ہم کم کام کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں بہترین انداز میں انجام دینا چاہتے ہیں، تاکہ فوڈ پانڈا صارفین کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن سکے اور لوگ روزانہ کی بنیاد پر ہماری ایپ پر انحصار کریں۔