پاکستان

وزیرِ اعلیٰ بہارکا خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچنا کھلی مسلم دشمنی ہے، منعم ظفر خان

حکمرانوں کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے، امیر جماعت اسلامی کراچی
شائع December 24, 2025 اپ ڈیٹ December 24, 2025 02:39pm

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ بہار نتیش کمار کا ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچنا کھلی مسلم دشمنی اور ہندوتوا ذہنیت کا واضح اظہار ہے۔ یہ واقعہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ریاستی سطح کے منظم تعصب کا حصہ ہے اور اس پر صرف وزارتِ خارجہ کے بیانات کافی نہیں بلکہ حکمرانوں کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔

نیو ایم اے جناح روڈ پر جماعت اسلامی کراچی کے حلقہ خواتین کی جانب سے منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں منعم ظفر خان نے کہا کہ بھارت میں مسلمان خواتین، اقلیتیں اور انسانی حقوق کے دعوے دار خود اپنے شہریوں پر ظلم کر رہے ہیں، پاکستان اور پوری دنیا میں جہاں بھی ظلم ہو رہا ہے، آواز بلند کرنا ضروری ہے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی خواتین ہمیشہ مظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہتی ہیں اور آج کا مظاہرہ سیکولر انڈیا کی منافقت اور اقلیتوں کے خلاف رویوں کو دنیا کے سامنے لانے کا ایک مظہر ہے۔

مظاہرے سے سیکریٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ کا یہ عمل بھارت کے آئین میں موجود مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے اور متاثرہ خاتون کے حق میں انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔

نائب امیر کراچی مسلم پرویز، ڈپٹی سیکرٹریز حلقہ خواتین، سیکرٹری اطلاعات اور دیگر رہنما بھی مظاہرے میں موجود تھے۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی اور بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

ڈاکٹر حمیرا طارق نے مزید کہا کہ ظلم و جبر دیرپا نہیں ہوتا اور مسلمان اپنی نظریاتی بنیادوں کے تحت آگے بڑھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دنیا بھر میں مظلوم خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ یکجہتی جاری رکھی جائے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025