پاکستان

پاکستان کی ڈاکٹر دلہنیں : اعلیٰ تعلیم یافتہ ، گھروں تک محدود اور پچھتاوے کا شکار

  • شادی کے بعد پیشہ ورانہ زندگی ترک کرنے پر مجبور کی جانے والی ہزاروں خواتین ڈاکٹرز کی کہانی ، صباء ملک کو طب کی پریکٹس چھوڑے اٹھارہ برس گزر چکے ہیں، مگر وہ آج بھی اس فیصلے پر شدید پچھتاوا محسوس کرتی ہیں، کیونکہ طب ایک ایسا پیشہ تھا جس سے وہ بے حد محبت کرتی تھیں اور اسے چھوڑنا ان کے لیے آسان نہیں تھا
شائع December 17, 2025 اپ ڈیٹ December 17, 2025 05:01pm

جب صباء ملک پاکستان میں مردانہ غلبے والے پیشہ ورانہ ماحول میں واحد خاتون سرجن کے طور پر اپنے دنوں کو یاد کرتی ہیں تو انہیں فخر محسوس ہوتا ہے، مگر جب ان کے شوہر نے اصرار کیا کہ ان کی بیٹی بھی طب کی تعلیم حاصل کرے تو وہ سختی سے اس کے خلاف کھڑی ہو گئیں۔وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی بھی ان جیسی ایک ڈاکٹر دلہن بنے ، حد سے زیادہ تعلیم یافتہ، کم استعمال ہونے والی صلاحیتوں کے ساتھ، گھر تک محدود اور پچھتاوے سے بھری ہوئی۔

صبا ملک کہتی ہیں کہ میرے شوہر آج بھی مجھے الزام دیتے ہیں کہ میں نے اسے میڈیکل کے راستے سے ہٹا دیا، لیکن میں ہمیشہ یہی جواب دیتی ہوں کہ میں اپنی بیٹی کو صرف اس لیے کوئی کام کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی کہ اس سے اسے بہتر رشتے ملیں گے۔صبا نے خاندانی ردعمل کے خوف سے اپنا نام فرضی رکھنے کی درخواست کی ہے۔

شوہر کی جانب سے طب کی پریکٹس چھوڑنے پر مجبور کیے جانے کے 18 برس بعد بھی صبا ملک کو اپنے اس کیریئر کے چھوٹ جانے کا شدید دکھ ہے، جس سے وہ بے حد محبت کرتی تھیں۔

پاکستان کی زیادہ تر شادیوں کی طرح ان کی شادی بھی طے شدہ تھی اور رشتہ طے کرتے وقت ان کا ڈاکٹر ہونا ان کے شوہر اور سسرال کے لیے ایک بڑی کشش تھا۔ مگر شادی کے بعد ان کے بقول شوہر نے پہلے انہیں مرد مریضوں کے علاج سے روکا اور پھر مکمل طور پر کام کرنے سے منع کر دیا۔

وہ ایک ایسی بیوی چاہتے تھے جو ڈاکٹر ہو، مگر ایسی نہیں جو حقیقت میں ڈاکٹر کے طور پر کام کرے۔

صبا ملک کی صورتحال کوئی انوکھی نہیں

پاکستان میں میڈیکل کالجوں میں داخلوں میں خواتین کی تعداد 80 فیصد ہے، لیکن شادی کے بعد بڑی تعداد میں خواتین ڈاکٹرز پریکٹس چھوڑ دیتی ہیں۔ انہیں ’’ڈاکٹر دلہنیں‘‘ کہا جاتا ہے، یہ اصطلاح کالم نگار رافعیہ ذکریا نے متعارف کروائی ہے، جن کے مطابق میڈیکل ڈگری کو ’’ایسی جہیز کی ڈگری‘‘ بنا دیا جاتا ہے جس کی قدر اس کے استعمال میں نہیں بلکہ محض اس کے ہونے میں ہوتی ہے۔

پیشہ ور میرج بروکرز کے مطابق خاندان ڈاکٹر دلہن سے ملنے والے سماجی رتبے سے لطف اندوز ہوتے ہیں، مگر اس کے ساتھ یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ روایتی کردار ادا کرے یعنی صرف بچوں کی پرورش اور گھر کی دیکھ بھال کا فریضہ انجام دے۔

صباء کے شوہر نے پہلے انہیں مرد مریضوں کے علاج سے روک دیا اور بعدازاں انہیں مکمل طور پر کام کرنے سے بھی منع کر دیا۔

اس رجحان کے عوامی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ستمبر 2023 میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں موجود 1 لاکھ 4 ہزار 974 خواتین میڈیکل گریجویٹس میں سے تقریباً 35 فیصد بے روزگار ہیں۔ ماہرین صحت کا خیال ہے کہ اس صنفی فرق کو کم کرنا صحت کے شدید مسائل سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جو گلوبل ہیلتھ سکیورٹی انڈیکس میں 195 ممالک میں 130 ویں نمبر پر ہے۔

عالمی بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فی ہزار افراد پر 1.1 ڈاکٹر ہیں، جبکہ یورپی یونین میں یہ شرح 4.3 اور عالمی اوسط 1.7 ہے۔

اس صورتحال نے ملک بھر میں یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ آیا ایسی خواتین کی تعلیم پر عوامی وسائل ضائع ہو رہے ہیں جو بعد میں افرادی قوت کا حصہ نہیں بنتیں۔

2014 میں پاکستان میڈیکل کمیشن نے میڈیکل کالجوں میں خواتین کے لیے کوٹہ محدود کرنے کی تجویز دی، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ خواتین تعلیمی میدان میں تو نمایاں کارکردگی دکھاتی ہیں مگر مردوں کی طرح پیشہ ورانہ کیریئر میں دلچسپی نہیں لیتیں۔ اس تجویز پر سماجی کارکنوں اور طبی ماہرین نے شدید ردعمل دیا اور کمیشن پر قدامت پسند سوچ اپنانے اور خواتین ڈاکٹروں کے خلاف اقدامات کا الزام لگایا۔

پاکستان کی صورتحال پورے جنوبی ایشیا میں پائے جانے والے رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جہاں خواتین کی تعلیم میں اضافہ ہو رہا ہے مگر افرادی قوت میں ان کی شمولیت کم ہو رہی ہے۔

ماہرینِ معاشیات اسے ’’یو شکل تعلق‘‘ قرار دیتے ہیں، جو درمیانی آمدنی والے ممالک میں عام ہے، مگر جنوبی ایشیا میں یہ شرح خاص طور پر کم ہے۔ پاکستان میں صحت کا شعبہ ایسا ہے جہاں تربیت یافتہ خواتین ڈاکٹروں کی شمولیت سے نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

میڈیکل کی ڈگری کو بہتر رشتوں کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے

صبا ملک کہتی ہیں کہ اگرچہ وہ ایک آرام دہ گھر اور پیار کرنے والے بچوں کے ساتھ رہ رہی ہیں، مگر انہیں زندگی سے کوئی تسکین حاصل نہیں اور اس کا اثر ان کی ذہنی صحت پر پڑا ہے۔

وہ کہتی ہیں اگر میں کام کر رہی ہوتی تو آج جسمانی اور ذہنی طور پر بہتر حالت میں ہوتی۔ اتنی پڑھائی کا کیا فائدہ، اگر آخر میں مجھے صرف گھر سنبھالنا ہی تھا؟

صبا کی دونوں بہنوں نے بھی میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔ ان کے مطابق والدین نے اس لیے حوصلہ افزائی کی کہ اس سے بہتر رشتے مل سکیں۔کراچی کی ایک ڈاکٹر دلہن ماہا جاوید کہتی ہیں کہ میں نے بہت سے خاندان دیکھے ہیں جہاں تمام لڑکیوں کو اسی وجہ سے ڈاکٹر بنایا جاتا ہے۔انہوں نے بھی خاندانی ردعمل کے خوف سے فرضی نام استعمال کرنے کی درخواست کی۔

ماہا جاوید شعبہ طب سے اس لیے وابستہ ہوئیں کیونکہ یہ ان کا شوق تھا، نہ کہ شادی کے لیے کوئی ذریعہ ۔ 2009 میں انہیں ملک کی معروف طبی درسگاہ ضیاءالدین یونیورسٹی میں داخلہ ملا، مگر شادی کی پیشکش ایک شرط کے ساتھ آئی کہ انہیں تعلیم چھوڑنی ہوگی۔ شادی کے بعد ان کی زندگی صفائی اور کھانا پکانے تک محدود ہو گئی۔ وہ کہتی ہیں کہ آج بھی اپنے کلاس فیلوز کو پریکٹس کرتے دیکھ کر ایک حسرت ہوتی ہے۔ یہ وہ ایک کام تھا جو میں واقعی زندگی میں کرنا چاہتی تھی، اس لیے مجھے پچھتاوا تو ہے۔

نیشنل سینٹر فار بائیوٹیکنالوجی انفارمیشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں والدین میڈیکل ڈگری کو ایک حفاظتی ضمانت سمجھتے ہیں، تاکہ اگر شادی میں مسائل پیدا ہوں تو بیٹی کے پاس سہارا ہو، اسے مضبوط کیریئر کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا۔ جب صبا ملک کے شوہر نے انہیں کام کرنے کی اجازت نہ دی تو انہوں نے اپنے والد سے مدد مانگی، مگر والد نے ازدواجی زندگی بچانے کے لیے شوہر کی بات ماننے کا مشورہ دیا۔

صبا ملک کہتی ہیں کہ آج وہ اپنے شوہر سے ناراض ہیں، جو اپنے پیشہ ورانہ میدان میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ مرد نہیں چاہتے کہ ان کی بیویاں پیشہ ورانہ طور پر ان سے آگے بڑھیں، یہ ان کی نفسیات ہے۔

بذریعہ ریموٹ کام کرنے کا موقع

لاہور کی سارہ سعید خرم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ بھی اس صورتحال کا شکار ہوں گی، مگر 2004 میں پہلی بیٹی کی پیدائش کے بعد انہوں نے ریڈیالوجی کی پریکٹس چھوڑ دی۔ انہوں نے کہاکہ مجھے احساس ہوا کہ میں بھی ڈاکٹر دلہن بن گئی ہوں،وہ کہتی ہیں، کام نہ کر سکنے کی وجہ سے میں ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔

گھر بیٹھے کام جاری رکھنے کے لیے انہوں نے 2005 میں کراچی کے ایک کلینک کے ساتھ ریموٹ کام شروع کیا، جہاں افغانستان کی جنگ کے باعث ڈاکٹروں کی کمی تھی۔اسی تجربے سے انہیں یہ احساس ہوا کہ ڈاکٹر دلہنیں ایک بڑی مگر غیر استعمال شدہ افرادی قوت ہیں۔ بعدازاں انہوں نے ’’صحت کہانی‘‘ کے نام سے 24 گھنٹے کام کرنے والی ٹیلی میڈیسن کمپنی قائم کی، جو گھروں میں موجود ڈاکٹروں کو مواقع فراہم کرتی ہے۔ آج صحت کہانی 42 لاکھ سے زائد مشاورت مکمل کر چکی ہے اور ملک بھر میں 65 ای کلینکس چلا رہی ہے۔

پاکستان میں خواتین ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی شمولیت صحت کے کئی مسائل حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں بچوں کی اموات کی شرح دنیا میں بدترین میں شمار ہوتی ہے۔ کئی ممالک میں خواتین اطفال اور فیملی میڈیسن میں بڑی تعداد میں خدمات انجام دیتی ہیں، امریکا میں اطفال کے شعبے میں 52 فیصد خواتین ہیں۔

صبا ملک کہتی ہیں میں نے اپنی بہن کے لیے بھی یہی جنگ لڑی کہ وہ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرے، کیونکہ وہ یہی چاہتی تھی۔ اگرچہ ان کے بہنوئی نے آخری امتحان کے دن تک مخالفت کی، مگر آخرکار ان کی بہن کامیاب ہو گئی۔

صبا ملک آخر میں کہتی ہیں میں اکثر اپنے شوہر سے کہتی ہوں کہ اگر تمہیں صرف برتن دھونے والی چاہیے تھی تو کسی باورچن سے شادی کر لیتے، ڈاکٹر کو ہم سفر نہیں بنانا چاہیے تھا۔