کاروبار اور معیشت

آڈٹ اوور سائیٹ بورڈ کا قیام، کابینہ کمیٹی نے ایس ای سی پی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دیدی

  • یہ منظوری وفاقی کابینہ کے سامنے سمری پیش کرنے سے قبل وزارت قانون کی جانچ پر مشروط ہے۔
شائع December 14, 2025 اپ ڈیٹ December 14, 2025 10:30am

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزیر قانون کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے قانونی مقدمات نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) ایکٹ، 1997 میں آڈٹ اوور سائیٹ بورڈ کے قیام کے لیے پارٹ IX-C میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی منظوری دی، تاہم یہ منظوری وفاقی کابینہ کے سامنے سمری پیش کرنے سے قبل وزارت قانون کی جانچ پر مشروط ہے۔

ذرائع کے مطابق، مالیاتی ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ایکٹ، 1997 کو ایس ای سی پی ترمیمی ایکٹ, 2016 کے ذریعے 6 اگست 2016 کو ترمیم کی گئی تھی تاکہ آڈٹ اوور سائیٹ بورڈ کے قیام کے لیے پارٹ IX-C شامل کیا جا سکے۔ آڈٹ اوور سائیٹ بورڈ ایک آزاد ادارہ ہے جو عوامی مفاد میں کام کرتا ہے اور پبلک انٹرسٹ اداروں کے مالی بیانات کے آڈٹ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے قائم کیا گیا۔

مالیاتی ڈویژن نے مزید بتایا کہ آڈٹ اوور سائیٹ بورڈ نے پارٹ IX-C میں ترامیم کی تجویز پیش کی تاکہ اسے درکار عملی خودمختاری فراہم کی جا سکے، ریگولیٹری تعمیل کو مضبوط بنایا جائے، آڈٹ نگرانی بہتر ہو، شفافیت اور جواب دہی میں اضافہ ہو اور موجودہ آڈٹ نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایس ای سی پی پالیسی بورڈ نے 27 مئی 2025 کے اجلاس میں پارٹ IX-C میں ترامیم کی منظوری دی تھی جبکہ کابینہ کی اصولی منظوری 17 ستمبر 2025 کو حاصل کی گئی۔ وزارت قانون و انصاف نے ڈرافٹ بل کا جائزہ لیا اور اس میں کی گئی ترامیم کو بھی بل میں شامل کیا گیا۔ اس حوالے سے سرٹیفیکیٹ، موازناتی میٹرکس اور مقاصد و وجوہات کا بیان بھی کمیٹی کے ساتھ شیئر کیا گیا۔

کمیٹی نے ڈرافٹ بل کا تفصیلی جائزہ لیا اور مالیاتی ڈویژن، ایس ای سی پی اور وزارت قانون و انصاف کو ہدایت دی کہ تجاویز کو بل میں شامل کیا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے تاکہ موجودہ آڈٹ نظام میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تبدیلی لائی جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ یہ ترامیم موجودہ آڈٹ نظام میں بنیادی تبدیلیاں لا رہی ہیں، اس لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی رائے لازمی شامل کی جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی اور معاملہ دفترِ وزیر اعظم کی سطح پر بھی زیر غور آیا جہاں تمام اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی موجود تھی۔ کمیٹی نے تجاویز کو حتمی شکل دینے کے بعد بل کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت دی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025