پاکستان نئی اقسام کے سانترے اپنانے سے کینو کی برآمدات 400 ملین ڈالر تک بڑھا سکتا ہے
- امید افزا اقسام میں سیڈ لیس کینو ، کینو گولڈ'، 'کینو لیٹ ، مینڈارن نووا اور مینڈارن کلیمنٹائن شامل ہیں
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے آج موجودہ سیزن کے لیے کینو کی برآمدات کا ہدف 3 لاکھ ٹن مقرر کیا ہے، جس سے متوقع طور پر 110 ملین ڈالر کی غیر ملکی زرمبادلہ آمد ہوگی۔گزشتہ سیزن میں پاکستان نے ڈھائی لاکھ ٹن کینو برآمد کیا تھا، جس سے 95 ملین ڈالر حاصل ہوئےتھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نئی سانترے کی اقسام متعارف کروا کر اور سپلائی چین کی کارکردگی میں بہتر ی لاکر آئندہ پانچ سال میں برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی 400 ملین ڈالر تک بڑھا سکتا ہے۔
اس سیزن کی کینو کی برآمدات کا آغاز ہو چکا ہے اور یکم دسمبر سے اب تک 6,000 ٹن کینو مشرق وسطیٰ، سری لنکا اور فلپائن کو بھیجا جا چکا ہے۔
ایسوسی ایشن کے پیٹرن اِن چیف وحید احمد کے مطابق اس سیزن میں فصل کا حجم بہت زیادہ ہے اور کل پیداوار 2.7 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ گزشتہ سیزن میں یہ 1.7 ملین ٹن تھی۔ پیداوار میں اضافے کے باوجود برآمدات اب بھی پانچ سال قبل برآمد ہونے والی 550,000 ٹن سے 50 فیصد کم ہیں۔
ان کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ کاشت میں تحقیق و ترقی کی کمی اور پرانی اقسام پر انحصار ہے جو ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی کی ہارٹیکلچر ماہر ڈاکٹر آصفہ اکبر پنہور نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ کاشتکار تین سے پانچ نئی سانترے کی اقسام اپنا سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ امید افزا اقسام میں سیڈ لیس کینو ،کینو گولڈ،کینو لیٹ، مینڈارن نووا اور مینڈارن کلیمنٹائن شامل ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ آسٹریلیا پاکستان ایگریکلچر سیکٹر لنکیجز پروگرام کے تحت تصدیق شدہ نرسریاں اور بہتر پودے متعارف کروائے جا چکے ہیں۔ مناسب تحقیق کے ذریعے کاشتکار آہستہ آہستہ ان ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے والی اور برآمدات کے لیے موزوں اقسام کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں ،تاکہ عالمی مارکیٹ کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
ڈاکٹر آصفہ اکبر کے مطابق پروگرام نے ثابت کیا کہ بہتر کوالٹی کنٹرول، جدید پیکنگ ہاؤسز، کولڈ ٹریٹمنٹ اور بین الاقوامی فوڈ سیفٹی کے معیار عالمی سطح پر قبولیت بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کو مضبوط بنانا، نئی برآمدی مارکیٹس قائم کرنا، پروسیسنگ یونٹس کو اپ گریڈ کرنا اور سپلائی چین کی کارکردگی بہتر کرنا کینو کی موجودہ برآمدات کو پانچ سال میں 400 ملین ڈالر تک بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وحید احمد نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے برآمدات بڑھانے کے لیے حکومت کے سامنے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی منصوبے پیش کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو مقامی کاشت کے لیے مصر، امریکہ، مراکش اور چین سے نئی اقسام حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی، جبکہ کم پانی استعمال کرنے والی اقسام جیسے لیموں، گریپ فروٹ، نارنگی اور مینڈارن کو ترجیح دی جائے، جن کی بین الاقوامی مارکیٹ میں زیادہ طلب ہے۔
وحید احمد کے مطابق افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کی معطلی نے زمینی راستوں کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کو کینو برآمد کرنے میں مشکلات پیدا کی ہیں۔ ایران کے ذریعے متبادل راستہ طویل اور مہنگا ہے،ایران کے ذریعے فریٹ کی شرح سیزن کے آغاز پر پہلے ہی 100 فیصد تک بڑھ چکی ہے اور اضافی لاجسٹک چیلنجز بھی درپیش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کینو کی برآمدات بڑھانے، تحقیق و ترقی کو مضبوط کرنے اور پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے پیش نظر جدید آبپاشی کے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے قومی سطح پر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔