پاکستان

ڈس ایبل ا فراد کیلئے تعلیمی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے اکیڈمیا و انڈسٹری میں شراکت پر زور

  • وقار اور مساوی مواقع کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیئے، مقررین
شائع December 4, 2025 اپ ڈیٹ December 4, 2025 12:25pm

ڈس ایبل افراد کیلئے تعلیم، مہارتوں کی ترقی اور روزگار کے مواقع کے فروغ کیلئے اکیڈمیا اور اندسٹری کے درمیان اشتراک کے حوالے سے ”UpliftingU“ کے عنوان سے ایک اہم راؤنڈ ٹیبل مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔اس مذاکرے کا اہتمام یونی لیور پاکستان نے NOWPDP اور پاکستان بزنس کونسل کے اشتراک سے کیا تھا۔

یونی لیور پاکستان کے ہیڈ آفس میں منعقدہ اس راؤنڈ ٹیبل میں شرکاء نے معذور افراد کی صلاحیتوں کو ملکی مستقبل کی افرادی قوت میں شامل کرنے کے لیے عملی حل تلاش کیے اور تعلیمی و پیشہ ورانہ ماحول میں مساوی رسائی کے فروغ کے لیے درکار نظامی اصلاحات پر غور کیا۔

راؤنڈ ٹیبل میں ابتدائی پس منظر کی بریفنگ کے بعد مباحثہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں شرکاء نے اسٹریکچرل رکاوٹوں، شمولیتی تعلیمی ڈھانچے میں موجود خلا اور انڈسٹری، اکیڈمیا اور ترقیاتی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس کے دوران NOWPDP نے یونی لیور پاکستان کے اشتراک سے صلاحیت سازی کے ایک نئے پروگرام کا اعلان بھی کیا، جس کا مقصد معذور افراد کے لیے ہنرمندی کے مواقع کو وسعت دینا اور ملازمت کے امکانات کو بہتر بنانا ہے۔

یہ اقدام معذور افراد کی شمولیت کے نظام کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا اور مساوی مواقع اور باعزت روزگار سے متعلق قومی ترجیحات کی حمایت کرتا ہے۔

مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے یونی لیور پاکستان کی ہیومن ریسورس ہیڈ، صنم شیخ پاکستان بزنس کونسل کے تحقیقی و وکالتی پلیٹ فارم CERB کی نمائندہ، نازش شیخا اور NOWPDP کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، عمیر احمدنے کہا کہ معذور افراد کو آج بھی مسلسل عدم مساوات کا سامنا ہے، پاکستان میں تقریباً 27 ملین ڈس ایبل افراد ہیں، لیکن بہت کم لوگ اعلیٰ تعلیم یا روزگار تک پہنچ پاتے ہیں کیونکہ ہمارا ماحول ابھی تک رسائی کو آسان نہیں بنا سکا ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ وقار اور مساوی مواقع کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیئے۔