ڈنمارک پاکستان کو ماحول دوست ٹیکنالوجیز اپنانے میں مدد فراہم کریگا

  • سفیر ماجا مورٹینسن کا دو طرفہ تجارتی تعلقات بڑھانے کیلئے آئندہ ہفتے کراچی جانے کا فیصلہ
شائع December 4, 2025 اپ ڈیٹ December 4, 2025 12:02pm

ڈنمارک کی سفیر ماجا مورٹینسن نے کہا ہے کہ ڈنمارک پاکستان میں ماحول دوست ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں مدد فراہم کرے گا۔

فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے ماجا مورٹینسن نے کہا کہ ڈنمارک کی ڈی نیڈا سسٹین ایبل انفرااسٹرکچر فنانس (ڈی ایس آئی ایف) نے فیصل آباد میں جدید ترین ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر کے لیے پہلے ہی 183 ملین یورو بغیر سود کے قرض فراہم کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ڈنمارک کی حکومتوں کے درمیان پہلے سے ہی قریبی تعلقات قائم ہیں ڈنمارک کی بہت سی کمپنیاں اس وقت پاکستان میں کام کر رہی ہیں جب کہ اورکمپنیوں کو بھی پاکستان میں کام کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کا سفارتخانہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم اور بڑھانے کیلئے تندہی سے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دو طرفہ تجارتی تعلقات کو بڑھانے کیلئے آئندہ ہفتہ کراچی بھی جار ہی ہیں تاکہ بزنس کمیونٹی سے براہ راست رابطوں کو مستحکم کیا جاسکے۔

اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے ڈنمارک کی سفیر کا خیر مقدم کیا اور انہیں فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ چیمبر کے ممبران کی تعداد بارہ ہزارہے جبکہ اِس کا شمار ملک کے تین اہم چیمبرز میں ہوتا ہے۔ فیصل آباد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں ٹیکسٹائل سر فہرست ہے اور اس میں فیصل آباد کا حصہ 60 فیصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم 286ملین ڈالر تھا۔ پاکستانی برآمدات میں ٹیکسٹائل، گارمنٹس، سپورٹس گڈز اور چمڑے کی مصنوعات وغیرہ شامل ہیں جبکہ ڈنمارک سے درآمدات میں مشینری آلات، ادویات اور کیمیکلز وغیرہ شامل ہیں۔

انہوں نے شفاف توانائی کے سلسلہ میں ڈنمارک کی مہارت کو سراہا اور کہا کہ ڈنمارک کی سرمایہ کاری سے یہاں ماحول دوست ٹیکنالوجیز کو متعارف کرانے میں بھی بڑی پیشرفت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے تاجروں کے درمیان رابطوں کو بڑھانے کیلئے تجارتی وفود اور مشترکہ ایکسچینج پروگرامز شروع کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ماحولیاتی تبدیلی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے مگر اِس کے اثرات سے بری طرح متاثر ہونے والے ملکوں میں یہ سر فہرست ہے۔ انہوں نے گزشتہ سیلابوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے ہماری معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ متاثرین کی بحالی کیلئے پاکستانی حکومت کوششیں کر رہی ہے مگر عالمی برادری اور خاص طور پر ڈنمارک کو اس سلسلہ میں اپنا متحرک اور فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے فیصل آباد کے بارے میں دستاویزی فلم چلائی گئی جبکہ سوال و جواب کی نشست میں انجینئر بلال جمیل، وحید خالق رامے اور محمد علی نے حصہ لیا۔

سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر فاروق یوسف شیخ نے ماجا مورٹینسن کو فیصل آباد چیمبر کی 50 سالہ خدمات کے حوالے سے خصوصی کالر پن اور شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر نائب صدر انجینئر عاصم منیر، ڈنمارک ایمبیسی کے اسلم پرویز اور مسٹر بابر بھی موجود تھے۔ آخر میں ڈنمارک کی سفیر ماجا مورٹینسن نے چیمبر کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کئے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025