مارکٹس

بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 90 سے نیچے، ٹیرف اور سرمایہ کے اخراج سے متاثر

  • ڈالر کے مقابلے میں 5 فیصد سے زائد کی کمی کے ساتھ بھارتی روپیہ ایشیا کی کمزور ترین کرنسیوں میں شامل
شائع December 3, 2025 اپ ڈیٹ December 3, 2025 07:37pm

بھارتی روپیہ بدھ کے روز ڈالر کے مقابلے میں 90 کی نفسیاتی حد سے تاریخ کی کم ترین سطح تک گر گیا، اور آٹھ ماہ سے جاری تنزلی کو بڑھا دیا، کیونکہ کمزور تجارتی اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کے ساتھ کمپنیوں کی ہیجنگ نے روپیہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

سال کے آغاز سے اب تک روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 5 فیصد سے زائد گر کر ایشیا کی کمزور ترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شامل ہو گیا ہے، کیونکہ امریکی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک کی سخت ٹیرفز نے اس کے سب سے بڑے مارکیٹ میں برآمدات کو محدود کر دیا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اسٹاک مارکیٹ کی کشش کم کر دی۔

بدھ کو روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین 90.29 پر پہنچا، اور دن کے اختتام پر 90.19 پر بند ہوا، یعنی دن بھر تقریباً 0.4 فیصد کی کمی۔

85 سے 90 تک کی یہ کمی ایک سال سے بھی کم عرصے میں واقع ہوئی، جبکہ 80 سے 85 تک گرنے میں دگنا وقت لگا تھا۔

پورٹ فولیو کے اخراج کے حوالے سے بھارت عالمی سطح پر سب سے زیادہ متاثرہ مارکیٹوں میں شامل ہے، جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نیٹ فروخت تقریباً 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں کمزوری کے ساتھ ساتھ غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) میں بھی سست روی نے دباؤ بڑھایا ہے۔

بھارت مجموعی سرمایہ کاری کے بہاؤ کو تو اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے، جو ستمبر میں 6.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، لیکن ابھرتی ہوئی آئی پی او مارکیٹ سے بڑے اخراج نے نیٹ آؤٹ فلو پیدا کر دیا، کیونکہ پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل کمپنیوں نے پہلے کی گئی سرمایہ کاری کی واپسی کی۔

ستمبر میں نیٹ ایف ڈی آئی دوسرے متواتر مہینے کے لیے منفی رہا، جس کی وجہ بیرونی ایف ڈی آئی میں اضافہ اور سرمایہ کاری کی واپسی تھی، جیسا کہ بھارتی مرکزی بینک (آر بی آئی) نے نومبر کے بلیٹن میں بتایا۔

ایم یو ایف جی کے سینئر کرنسی اینالسٹ مائیکل وان کے مطابق بھارت میں ڈالر کی طلب اور رسد میں اب بھی نمایاں عدم توازن موجود ہے۔ یہ زیادہ درآمدی ضرورت، وسیع کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور خاص طور پرایف ڈی آئی اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں کمزوری کی وجہ سے ہے۔

بلند شرح والے امریکی ٹیرفز اور سونے کی درآمد میں غیر متوقع طور پر اچانک اضافے نے اکتوبر میں بھارت کے مال تجارت کے خسارے کو تاریخی بلند سطح پر پہنچا دیا۔

اسی دوران مقامی کمپنیوں کے بیرون ملک قرض اور غیر مقیم بھارتیوں کے بینک میں جمع شدہ ڈالر کے بہاؤ میں بھی کمی آئی ہے۔

بینکرز اور تاجروں کے مطابق تنزلی کے ہر مرحلے، جس میں بدھ کو 90 کی سطح کا گرنا شامل ہے، نے ڈالر کی نئی طلب پیدا کی، خاص طور پر درآمد کنندگان کی جانب سے، جبکہ برآمد کنندگان ڈالر کی فروخت روک رہے ہیں۔

اس عدم توازن نے روپیہ کو موثر سرمایہ کاری کے بہاؤ کے بغیر بے پناہ دباؤ میں چھوڑ دیا ہے۔

ایچ ایس بی سی کے معیشت دانوں کے مطابق بھارتی روپیہ، جو خود مختار اور کسی سہارا کے بغیر ہے، معیشت کے جھٹکوں کو کم کرنے اور بیرونی مالیات میں توازن برقرار رکھنے کا کردار ادا کرتا ہے۔ سخت امریکی ٹیرفز کے درمیان دھیرے دھیرے کمزور ہوتا ہوا روپیہ اس کا سب سے مؤثر حفاظتی ذریعہ ہے۔

نیو دہلی اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی مذاکرات میں مہینوں کی غیر یقینی صورتحال نے بھارت میں فارن ایکسچینج ہیجنگ کے منظرنامے کو بھی متاثر کیا، جس سے درآمد کنندگان کی ہیجنگ بڑھ گئی جبکہ برآمد کنندگان ہچکچا رہے اور نتیجتاً آر بی آئی کو کرنسی پر دباؤ سہنا پڑا۔

اگرچہ آر بی آئی وقتاً فوقتاً روپیہ کی تنزلی کو سست کرنے کے لیے مداخلت کرتا رہا، بینکرز کا کہنا ہے کہ درآمد کنندگان کی ہیجنگ اور اخراجات کی وجہ سے ڈالر کی مسلسل طلب کرنسی پر دباؤ ڈالتی رہی ہے۔

آر بی آئی کی کوششیں روپیہ کو سہارا دینے کے حوالے سے غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر میں کمی اور فارن ایکسچینج فارورڈ مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی مختصر پوزیشنز میں 5 ماہ کی بلند سطح 63.4 ارب ڈالر پر پہنچنے میں ظاہر ہوئی ہیں۔