بی آئی ایس پی : مستحقین میں ایک کروڑ 6 لاکھ مفت سمز کی تقسیم کا آغاز
- سوشل پروٹیکشن والٹ کے پائلٹ مرحلے کو شاندار پذیرائی ملی ، دو دن میں ملک بھر میں 22 ہزار مفت سمز تقسیم ، حکام
ملک بھر میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مستحقین کو سوشل پروٹیکشن والیٹ کے تحت 1 کروڑ 6 لاکھ (10.6 ملین) مفت سمیں فراہم کی جائیں گی، جسے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سم پر مبنی مالی رسائی کی اسکیم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں بدھ کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں جاری سمز کی تقسیم کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے انسداد غربت عمران شاہ اور چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کی، جبکہ سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد سمیت دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔
بی آئی ایس پی حکام نے بتایا کہ سوشل پروٹیکشن والٹ کے پائلٹ مرحلے کو شاندار پذیرائی ملی ہے اور پیر سے آغاز کے بعد صرف دو دن میں ملک بھر میں 22 ہزار مفت سمز تقسیم کی جا چکی ہیں۔
حکام نے بریفنگ میں بتایا یہ خواتین کو بااختیار بنانے، مالی شمولیت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے دنیا کے سب سے بڑے اقدامات میں سے ایک ہے۔
سوشل پروٹیکشن والٹ ایک اہم اصلاحاتی اقدام ہے، جس کا مقصد بی آئی ایس پی مستحقین کے لیے شفافیت اور مالی شمولیت میں اضافہ کرنا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے تعاون سے اب ہر مستحق خواتین کو انفرادی بینک اکاؤنٹ فراہم کیا جائے گا، جو مکمل انٹرآپریبل ہو گ، یعنی وہ شراکت دار کسی بھی بینک کے چینل سے رقوم نکلوا سکے گا، جس سے سہولت اور مالی رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
اس قدم سے مالی شمولیت بڑھے گی، شفافیت میں بہتری آئے گی اور فراڈ کے خدشات کم ہوں گے۔
بی آئی ایس پی کے اعداد و شمار کے مطابق سوشل پروٹیکشن والٹ کا مرحلہ وار آغاز ہوچکا ، پہلا مرحلہ 17 نومبر کو 41 اضلاع میں ڈائنامک رجسٹری مراکز کے ذریعے شروع ہوا، جہاں مستحقین کو مفت سمز جاری کی جا رہی ہیں۔
دوسرا مرحلہ 24 نومبر سے 53 اضلاع میں کیمپ سائیٹ ماڈل کے تحت شروع ہو گا، جہاں ہر تحصیل میں کم از کم ایک کیمپ قائم کیا جائے گا۔
اسی طرح تیسرا مرحلہ یکم دسمبر سے 52 اضلاع میں شروع ہو گا، جہاں ہر تحصیل میں کم از کم دو کیمپ سائیٹس قائم کی جائیں گی۔