خواجہ آصف نے پی آئی اے کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا مسترد کر دیا
- پروازوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ، غیر مستند افراد قواعد طے نہیں کر سکتے ، وزیر ہوا بازی
وفاقی وزیر دفاع اور ہوا بازی خواجہ آصف نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی فلائٹ سیفٹی اور آپریشنز کے بارے میں گردش کرنے والے بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا۔
خواجہ آصف کا یہ بیان قومی ایئرلائن کے خلاف چلنے والی منفی مہم کے حوالے سے ایسے وقت میں سامنے آیا جب حکومت پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں مصروف ہے اور رواں سال اپریل میں ایک نیا ایکسپریشن آف انٹرسٹ (ای او آئی) بھی طلب کیا گیا تھا۔
حکومت کی جانب سے دوبارہ فروخت کی یہ کوشش قومی ایئرلائن میں اپنی حصص فروخت کرنے کے عزم کی تجدید ہے۔ ای او آئی جمع کرانے کی آخری تاریخ پہلے 3 جون مقرر کی گئی تھی ،تاہم بعد ازاں اسی شرائط و ضوابط کے ساتھ اسے 19 جون تک بڑھا دیا گیا۔
قرضوں میں ڈوبی ایئر لائن میں 51 سے 100 فیصد حصہ فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، تاکہ فنڈز اکٹھے کیے جا سکیں اور نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاح کی جا سکے، جیسا کہ 7 بلین ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کے تحت تصور کیا گیا ہے۔
گزشتہ سال پی آئی اے کو نجی ملکیت میں دینے کی پہلی کوشش میں حکومت ناکام رہی تھی، کیونکہ اسے صرف ایک ہی پیشکش موصول ہوئی تھی جو 300 ملین ڈالر سے زائد کی مطلوبہ قیمت سے بہت کم تھی۔
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں وزیرِ ہوا بازی نے مزید کہا کہ پروازوں کی حفاظت اور معیار پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستانی اور بین الاقوامی ریگولیٹرز موجود ہیں تو غیر مستند افراد اس حوالے سے قواعد طے نہیں کر سکتے۔
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت قومی پرچم بردار ایئر لائن کو منافع بخش بنانے اور اس کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے ٹیم پی آئی اے کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پی آئی اے کی پروازیں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور بین الاقوامی حفاظتی معیارات کی مکمل پابندی کے ساتھ جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران پی آئی اے کی اوسط یومیہ آمدنی 60 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جو کہ باقاعدہ ملکی و بین الاقوامی پروازوں کے شیڈول کو بغیر کسی تعطل کے برقرار رکھتے ہوئے حاصل کی گئی۔
وفاقی وزیر نے بعض حلقوں پر الزام عائد کیا کہ وہ قومی مفادات کو نقصان پہنچانے اور ایئر لائن کی بحالی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے گمراہ کن خبریں پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ پانچ برسوں میں پی آئی اے کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پی آئی اے باقاعدگی سے ملکی پروازیں اور بین الاقوامی روٹس پر پروازیں جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں ٹورنٹو، مانچسٹر، پیرس، سعودی عرب، چین اور مشرقِ بعید کے مقامات شامل ہیں، جبکہ یورپ اور شمالی امریکہ تک اپنی پروازوں کے نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق 16 ستمبر کو بتایا گیا کہ پی آئی اے نے 2025 کی پہلی ششماہی میں ٹیکس سے قبل منافع حاصل کیا، جو تقریباً دو دہائیوں میں اپنی نوعیت کا پہلا منافع ہے اور یہ قومی ایئر لائن کی متوقع نجکاری سے قبل حاصل ہوا۔
پی آئی اے جو پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کا حصہ ہے نے رواں سال جنوری تا جون کے دوران 11.5 ارب روپے (40.64 ملین ڈالر) کا ٹیکس سے قبل منافع حاصل کیا
جب کہ 2024 کی اسی مدت میں اسے ٹیکس سے قبل خسارے کا سامنا تھا اور اس نے صرف مؤخر ٹیکس ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے معمولی سالانہ منافع حاصل کیا تھا۔رواں سال کی پہلی ششماہی میں خالص منافع 6.8 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔