پاکستان

افغان طالبان سے استنبول مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم

طالبان حکومت پاکستان مخالف گروہوں کے خلاف تصدیق شدہ کارروائی میں ناکام رہی ، دفترِ خارجہ
شائع November 9, 2025 اپ ڈیٹ November 9, 2025 06:04pm

پاکستان نے کہا ہے کہ ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات استنبول میں کسی پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوئے، کیونکہ طالبان حکومت افغان سرزمین پر موجود پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے 6 نومبر کو استنبول میں ہونے والے مذاکرات سے متعلق مختلف میڈیا سوالات کے جواب میں یہ بات کہی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور، جو برادر ممالک ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہوا 7 نومبر کو استنبول میں مکمل ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد دونوں میزبان ممالک کی ثالثی کی کوششوں کی قدر کرتا ہے، تاہم طالبان حکومت کی جانب سے بار بار کیے جانے والے کھوکھلے وعدے پاکستان کے صبر کا امتحان لے چکے ہیں۔

دفترِ خارجہ کے بیان میں مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد پاکستان کا مؤقف پیش کیا گیا، جو دوحہ میں طے پانے والے ایک سابقہ سمجھوتے کے تسلسل میں جاری تھا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے کئی سالوں سے طالبان سے مثبت انداز میں رابطہ رکھا، تجارتی رعایتیں دیں، انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کی اور سفارتی سطح پر روابط بڑھائے۔

اس امید پر کہ کابل اپنی سرزمین کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) المعروف فتنۃ الخوارج اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی اے ایل ) المعروف فتنۃ الہندستان جیسے گروہوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے تحمل اور مسلسل کوششوں کے باوجود، اگست 2021 کے بعد سے افغان سرزمین سے حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ دوحہ مذاکرات میں ایک سمجھوتہ طے پایا تھا جس کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی بھی ہوئی، جبکہ استنبول کے اجلاسوں کا مقصد اس سمجھوتے کے نفاذ اور نگرانی کے لیے نظام وضع کرنا تھا۔

اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ایک ہی بنیادی نکتہ پر مرکوز رہا ، ان دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی جو پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کرتے ہیں۔ اس اہم نکتے کو حل کرنے کے بجائے افغان فریق نے غیر متعلقہ اور فرضی الزامات اٹھا کر توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔

دفترِ خارجہ نے کہا کہ سرحد پار حملوں پر پاکستان کا اکتوبر کا ردِعمل اس کے عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے دفاع میں کسی سمجھوتے پر تیار نہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ TTP/FaK اور BLA/FaH ریاستِ پاکستان کے دشمن ہیں، اور جو کوئی ان کی پناہ، مدد یا مالی معاونت کرے گا، اسے دوست تصور نہیں کیا جائے گا۔ تاہم پاکستان سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، اور ترکیہ و قطر کے مشورے پر ہونے والے یہ مذاکرات امن کو ایک اور موقع دینے کی کوشش تھے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مہاجرین کا نہیں بلکہ دہشت گردی کا ہے۔ افغان طالبان ان گروہوں کو پناہ دے رہے ہیں اور انہیں تربیتی مراکز چلانے کی اجازت دے رہے ہیں جو پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

دفترِ خارجہ نے ان دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کابل کی اختیارات کی کمی کا دعویٰ دراصل نیت کا مسئلہ ہے، صلاحیت کا نہیں۔

طاہر اندرابی نے طالبان کی ان کوششوں کو بھی مسترد کیا جن میں وہ اس مسئلے کو پاکستان کا داخلی معاملہ یا نسلی اختلافات کے بیانیے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ متحد ہے جو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات کرے گا۔

دفترِ خارجہ نے اپنے اختتامی بیان میں کہا کہ پاکستان مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے گا، تاہم یہ واضح ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات پہلے کیے جائیں۔ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ، نہ مذاکرات کی میز پر اور نہ میدان میں۔