پشاور میں اتوار کے روز کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے پولیس اسٹیشن کے اندر شارٹ سرکٹ کے باعث دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ایک پولیس اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہو گیا۔
آج نیوز نے پولیس حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ دھماکہ اسٹور روم میں ہوا جہاں مختلف مقدمات میں قبضے میں لیے گئے دھماکہ خیز مواد کو رکھا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ برقی شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ نے دھماکہ خیز مواد کو بھڑکا دیا، جس سے عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔
حادثے کے فوراً بعد ریسکیو اور فائر بریگیڈ ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جبکہ اسٹیشن میں موجود چار قیدیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد پولیس اسٹیشن کے اندر آگ بھڑک اٹھی، جسے بجھانے کے لیے فائر فائٹرز مسلسل کوشش کرتے رہے۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر قریبی سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
سی سی پی او پشاور کا زخمی اہلکار کی عیادت کے لیے اسپتال کا دورہ
کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) کا دورہ کیا اور دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکار زیت اللہ کی خیریت دریافت کی۔
اس موقع پر ایس ایس پی آپریشنز مسعود احمد، ایس پی کینٹ احتراز خان اور دیگر سینئر پولیس افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ڈاکٹر سعید احمد نے زخمی اہلکار کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اسے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کی قربانیاں ہمیشہ فخر کا باعث رہیں گی۔انہوں نے مزید کہا ہم اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔