پاکستان نے ملکی توانائی کی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے سول نیوکلیئر تعاون تک منصفانہ اور غیر امتیازی رسائی کے حق پر زور دیا اور ساتھ ہی جوہری سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستانی وفد کے رکن سید عاطف رضا نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی سالانہ رپورٹ پر ہونے والی بحث کے دوران کہا ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سول نیوکلیئر تعاون تک منصفانہ اور غیر امتیازی رسائی حاصل کرنے میں رکاوٹوں کو دور کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے کونسلر سید عاطف رضا نے کہا کہ موجودہ عدم پھیلاؤ کے نظام میں پائے جانے والے امتیازی رویوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مناسب بین الاقوامی ضمانتوں کے تحت پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے فروغ کے لیے منصفانہ اور جامع فریم ورک تشکیل دیا جائے۔

ابتدا میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسّی نے اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں یوکرین، ایران اور شام میں ادارے کے کام ، پرامن مقاصد کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجیز کی ترقی و منتقلی، نیوکلیئر سیفٹی، سکیورٹی میں بہتری ، عالمی سطح پر نیوکلیئر نگرانی اور غیر پھیلاؤ کی کوششوں کے بارے میں جائزہ شامل تھا۔

آئی اے ای اے کے اقدامات میں نیوکلیئر صنعت میں خواتین کارکنوں کی تربیت کے لیے ماری کیوری اور لیز میٹنر فیلوشپس ، صحت، خوراک کی حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔

اپنے بیان میں پاکستانی وفد کے رکن نے کہا کہ پاکستان آئی اے ای اے کے معیار کے مطابق اعلیٰ سطح کی نیوکلیئر سیفٹی اور سکیورٹی کو برقرار رکھتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام ممالک اپنے متعلقہ حفاظتی وعدوں پر مکمل عمل کریں اور یہ وعدے کسی فریق کے سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہ ہوں۔ اس کا تصدیقی نظام تب ہی معتبر رہے گا جب اسے غیر امتیازی بنیاد پر لاگو کیا جائے جیسا کہ ایجنسی کے آئین میں درج ہے۔

عاطف رضا نے مزید کہا کہ محفوظ شدہ نیوکلیئر تنصیبات پر حملے آئی اے ای اے کے حفاظتی نظام کو کمزور کرتے ہیں اور بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، آئی اے ای اے کے آئین اور متعلقہ جنرل کانفرنس قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے پاکستان کے محفوظ اور مکمل حفاظتی نیوکلیئر پاور پروگرام کے وسیع تجربے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس ہیں ، جن کی مجموعی صلاحیت 3,530 میگاواٹ ہے۔

گزشتہ سال ان پلانٹس نے مجموعی توانائی میں 18فیصد حصہ ڈالا جو ہمارے کم کاربن توانائی کے 34فیصد پیداواری حصہ کے برابر ہے اور ہر سال تقریباً 15 ملین ٹن سی او 2 کے اخراج کو روکتا ہے۔

پاکستانی وفد نے کہا کہ پاکستان آئی اے ای اے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ شراکت داری مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے ، تاکہ پرامن نیوکلیئر توانائی کے استعمال کو فروغ دے کر مشترکہ اہداف اور پائیدار ترقی کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔