ہر صبح لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں عبدالرّحمٰن اپنی چھوٹی سی کریانہ دکان جلدی کھول لیتا ہے۔ برسوں تک وہ نقد ریزگاری ساتھ رکھتا تھا،اس خدشے کے باعث کہ اگر وہ گاہکوں کو کھلے پیسے نہ دے سکا تو وہ ناراض ہوکر خریداری کئے بغیر چلے جائیں گے۔ دوسری جانب ہر رات اُس کی والدہ اس فکر میں پریشان رہتی تھیں کہ کہیں نقد رقم ساتھ لے جاتے ہوئے اُس کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آ جائے۔

آج اُس کے زیادہ تر مستقل گاہک چند سیکنڈ میں کیو آر کوڈ اسکین کر کے ادائیگی کر دیتے ہیں۔ وہ پہلی بار اپنے ملازمین اور سپلائرز کو بھی ڈیجیٹل طور پر ادائیگیاں کرتا ہے اور اپنی بچتیں بھی ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ کرتا ہے۔ اُس کی کہانی پاکستان میں غیر نقدی معیشت کے ایک پُرامید مستقبل کی علامت ہے۔

بدقسمتی سے عبدالرّحمٰن کی کہانی پاکستان کی بڑی آبادی کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اُس کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر ملک حقیقی معنوں میں کیش لیس معیشت کی طرف بڑھے تو مستقبل کیسا ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس سمت میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔

پاکستان کی معیشت کو ڈیجیٹل بنانے کی نمایاں کوششوں کے باوجود، ملک کا تجارتی اور خوردہ منظرنامہ اب بھی بڑی حد تک نقد رقم پر انحصار کرتا ہے۔ صرف گزشتہ سال پاکستان میں 9.5 کھرب روپے سے زائد کی نقد رقم گردش میں تھی۔

حال ہی میں پاکستان میں مالی شمولیت (فنانشل انکلوژن) 60 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، اور اب ملک دنیا کی بغیر بینک اکاؤنٹ رکھنے والی بالغ آبادی (ان بینک ایڈلٹس) کا صرف 4 فیصد حصہ رکھتا ہے، جو 2021 میں 9 فیصد تھا۔ تاہم، اس میں دیہی شمولیت صرف 15 فیصد ہے، جو اس عدم مساوات کو ظاہر کرتی ہے کہ ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات کی رسائی زیادہ تر شہری علاقوں تک محدود ہے۔

وزیرِاعظم کے غیر نقدی معیشت کے منصوبے کے تحت، حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام تک فعال ڈیجیٹل تاجروں (ایکٹیو ڈیجیٹل مرچنٹس ) کی تعداد 20 لاکھ تک بڑھائی جائے، موبائل اور انٹرنیٹ بینکنگ صارفین کو ایک سال کے اندر موجودہ 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھا کر 12 کروڑ کیا جائے، اور سالانہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لین دین کو دوگنا کر کے 15 ارب تک پہنچایا جائے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی ) نے افراد اور کاروباروں کے لیے اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو آسان بنایا ہے۔ بینک تاجروں کو، خواہ وہ دکان پر ہوں یا آن لائن، ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے کے حل فراہم کر رہا ہے، تاکہ ملک اپنے اس ہدف کے حصول کے قریب پہنچ سکے۔

یہ کوششیں اب نتائج دینا شروع کر چکی ہیں۔ مالی سال 2025 کی تیسری سہ ماہی میں خوردہ ادائیگیوں کے حجم میں سالانہ 12 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.408 ارب لین دین تک جا پہنچا، جب کہ مجموعی لین دین کی مالیت میں 8 فیصد اضافہ ہو کر یہ 164 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔ اسٹیٹ بینک کے سہ ماہی جائزے کے مطابق، تمام خوردہ ادائیگیوں میں سے 89 فیصد ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں، جو کیش لیس معیشت کی طرف بتدریج منتقلی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ اقدامات ڈیجیٹل مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دینے پر توجہ کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں برانچ لیس بینکنگ، آسان ڈیجیٹل اکاؤنٹس، ڈیجیٹل آن بورڈنگ، اور فری لانسرز، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور ترسیلاتِ زر حاصل کرنے والوں کے لیے خصوصی اکاؤنٹس شامل ہیں۔ اس سے سرمایہ مارکیٹ میں داخل ہو رہا ہے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، وہ بھی اپنے وطن میں رہتے ہوئے۔

ملک کے پہلے ڈیجیٹل ریٹیل بینک ایزی پیسہ نے بھی مالی شمولیت کے فروغ کے لیے اسٹیٹ بینک اور حکومت کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے تاکہ غیر بینک شدہ اور کم بینک شدہ علاقوں میں ڈیجیٹل مالی خدمات تک رسائی بڑھائی جا سکے۔ اس کا 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد ریٹیلرز پر مشتمل نیٹ ورک ملک بھر، خصوصاً دور دراز دیہی علاقوں میں، مالی خدمات کی فراہمی کو ممکن بنا رہا ہے۔ ساتھ ہی، یہ تمام خوردہ اور تجارتی مقامات پر راست کیو آر کوڈز جیسے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔ یہ اقدامات حکومت کے کیش لیس معیشت کے وژن کی تکمیل اور مالی شمولیت و خوشحالی کے فروغ میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

پاکستان کا مضبوط ریٹیل سیکٹر، جو 25 لاکھ سے زائد ریٹیل اور ہول سیل آؤٹ لیٹس کے ذریعے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 18 فیصد حصہ ڈالتا ہے، ملک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہونے کے باوجود کم استعمال شدہ اثاثہ ہے۔ اپنے حجم کے باوجود یہ شعبہ بڑی حد تک غیر دستاویزی اور غیر منظم ہے، اور قومی محصولات میں صرف 4 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے بڑھتے دباؤ کے باعث حکومت اب اس شعبے کو باضابطہ معیشت میں لانے کے لیے زیادہ سرگرم ہے، ایک ایسا اقدام جو اگر ڈیجیٹل ادائیگیوں اور بینکاری کے ذریعے تقویت پائے تو ملک میں غیر معمولی ترقی کے دروازے کھول سکتا ہے۔

تاہم تاجروں کی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کا راستہ مشکلات سے خالی نہیں، اور ان چیلنجز پر قابو پانا ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ کمزور مالی آگاہی رسمی مالیاتی خدمات پر اعتماد کو متاثر کرتی ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں جہاں آگاہی کم اور وسائل محدود ہیں۔ کمزور بنیادی ڈھانچہ، جیسے ناقص انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، نیٹ ورک کی بندشیں، اور دیہی علاقوں میں بجلی لوڈ شیڈنگ، اس عمل میں مزید رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔

جب کہ گاہکوں کا کمزور اعتماد، جو فراڈ، فِشنگ اور شکایات یا تنازعات کو حل کرنے والے غیر موثر نظام کی وجہ سے متزلزل ہو چکا ہے، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنانے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اگرچہ یہ چیلنجز بظاہر بڑے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ایسے بھی نہیں کہ انہیں کا حل نہ ڈھونڈا جاسکے۔ ان پر قابو پانے کے لیے اجتماعی اقدام درکار ہے، جو پالیسی اصلاحات، تکنیکی جدت و ترقی اور نچلی سطح پر آگاہی و تعلیم کو یکجا کرے، تاکہ اعتماد بحال ہو، کمیونٹیز کو بااختیار بنایا جائے اور لاکھوں افراد کو مالی شمولیت کے دائرے میں لایا جا سکے۔

مالی شمولیت اس وقت حقیقی معنوں میں ممکن ہوگی جب پاکستانی عوام محض شخصی رقوم کی منتقلی سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع کے تمام فوائد سے مستفید ہو سکیں گے۔

جیسا کہ وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ کیش لیس معیشت کی جانب پیش رفت محض ایک پالیسی خواہش نہیں بلکہ طویل المدتی مالیاتی استحکام، مسابقت، اور جامع ترقی کے لیے ایک عملی ضرورت ہے۔

تاہم، اس منزل تک پہنچنے کے لیے اب بھی کئی پہلوؤں پر توجہ دینا ضروری ہے اور یہ اس وقت ممکن ہوگا جب سرکاری و نجی دونوں شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز اس مقصد کے لیے مشترکہ اور مربوط کوششیں کریں۔

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025