مری بریوری کمپنی لمیٹڈ کو غیر مسلم ممالک میں بیئر مصنوعات برآمد کرنے کی سرکاری منظوری مل گئی ہے، جو پاکستان کی سب سے قدیم مشروبات ساز کمپنی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

کمپنی نے یہ انکشاف اپنی سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) اور کارپوریٹ بریفنگ سیشن (سی بی ایس) کے دوران کیا جہاں بتایا گیا کہ اس مقصد کے لیے ایک مخصوص ایکسپورٹ ڈپارٹمنٹ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق فی الحال بیئر برآمدات کا حجم خاصا محدود ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سپلائی زیادہ ہونے اور طویل عرصے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں دوبارہ انٹری کے باعث برآمدات بتدریج اگلے تین سے چار سال میں بڑھیں گی۔

فی الوقت کمپنی کی نان الکوحل مصنوعات کی برآمدات الکوحل پر مشتمل مشروبات کے مقابلے میں زیادہ ہیں اور ماہانہ تقریباً 30 ہزار امریکی ڈالر کے مساوی آمدنی فراہم کر رہی ہیں۔ انتظامیہ نے وضاحت کی کہ بیئر کی برآمد کی اجازت صرف مری بریوری تک محدود ہے، جبکہ چینی اشتراک سے چلنے والی جوائنٹ وینچر بریوری کو یہ اجازت نہیں دی گئی۔ حکومت کی جانب سے الکوحل مشروبات کی برآمد کے لیے عمومی (بلینکٹ) منظوری بھی جاری نہیں کی گئی۔

علاوہ ازیں مری بریوری نے تصدیق کی ہے کہ اسے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی اجازت ایکسائز ڈپارٹمنٹ سے مل گئی ہے۔ کمپنی نے مالی سال 2025 میں 1.5 ارب روپے کے سرمائے پر مبنی اخراجات (کیپیکس) کیے، جن میں مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری اور نیا گلاس فرنس نصب کرنا شامل تھا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025