پاکستان

عدالت نے علیمہ خان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیدیا

راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریک انصاف کے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کیس میں غیر...
شائع اپ ڈیٹ

راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریک انصاف کے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کیس میں غیر حاضری پر علیمہ خان کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) اور پاسپورٹ کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے، حالانکہ عدالت اس سے قبل ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری بھی جاری کر چکی تھی۔

سماعت کے دوران عدالت نے علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا بھی حکم دیا اور نادرا اور امیگریشن حکام کو ہدایت کی کہ ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا جائے۔

عدالت نے ان کے ضامن عمر شریف کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا اور ریمارکس دیے کہ ملزمہ ہر جگہ نظر آتی ہے، سوائے عدالت کے۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مزید حکم دیا کہ علیمہ خان کو گرفتار کر کے بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا جائے۔

خصوصی پراسیکیوٹر ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے، تاہم قید پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہیں ہوا۔

کیس میں نامزد دیگر 10 ملزمان اپنے وکلا اور استغاثہ کے گواہوں کے ساتھ عدالت میں موجود تھے۔اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج کے کیس میں علیمہ خان کے خلاف تیسری بار ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

20 اکتوبر کو عدالت نے علیمہ کے ضامن کے خلاف بھی وارنٹ جاری کیا تھا اور اس کے ضمانتی مچلکوں کی ضبطگی کا حکم دیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران جج امجد علی شاہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دفاعی وکیل کی یقین دہانیوں کے باوجود علیمہ عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔

عدالت نے ایس پی راول ڈویژن کو حکم دیا تھا کہ علیمہ خان کو گرفتار کر کے 22 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عدالت نے 8 اکتوبر کی سماعت کے دوران علیمہ سمیت 10 ملزمان پر فردِ جرم عائد کی تھی۔ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی اور اس وقت قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

کیس کا پس منظر:یہ مقدمہ پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق ہے، جب پارٹی کے کارکنان اور رہنما پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کر رہے تھے ، تاکہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا سکے۔ اس مارچ کی قیادت عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور اس وقت کے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کر رہے تھے۔

جب مظاہرین اسلام آباد کے قریب پہنچے تو ان کی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جھڑپیں ہوئیں، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

اس کے بعد راولپنڈی اور وفاقی دارالحکومت کے مختلف تھانوں میں دہشت گردی، ہنگامہ آرائی اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں درجنوں مقدمات درج کیے گئے، جن میں عمران خان، بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور، عمر ایوب اور دیگر رہنما بھی نامزد ہیں۔

علیمہ خان کو ان ہی مقدمات میں سے ایک میں مسلسل غیر حاضری پر تیسری بار ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری کا سامنا ہے۔