پنجاب حکومت نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا ہے کیونکہ بین الاقوامی ادارہ آئی کیو ایئر (آئی کیو اے آئی آر ) کی تازہ رپورٹ کے مطابق لاہور دنیا کے سب سے آلودہ بڑے شہروں میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اتوار کو لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 158 ریکارڈ کیا گیا، جو بھارت کے ممبئی (172) اور نئی دہلی (184) سے قدرے کم تھا، جب کہ چوتھے نمبر پر بھارتی شہر کولکتہ (154) اور پانچویں پر دبئی (151) موجود تھے۔ ان تمام شہروں کی فضاء کو غیر صحت بخش زمرے میں رکھا گیا ہے۔

ہر سال سردیوں کے موسم میں لاہور میں اسموگ سنگین مسئلہ بن جاتا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں فصلوں کے باقیات جلانا، صنعتی اخراج اور گاڑیوں کا دھواں شامل ہیں۔ تقریباً 1.3 کروڑ آبادی والا لاہور کراچی کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا شہر اور معاشی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے۔

پنجاب حکومت نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کھیتوں میں آگ لگانے کے بجائے کمپوسٹنگ، ملچنگ، سپر سیڈرز اور بائیو ڈیکمپوزرز جیسے ماحول دوست طریقے اختیار کریں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر میں فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف مہم جاری ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کچرا یا کھیتوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

محکمہ ماحولیات، پولیس اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ انسدادِ اسموگ آپریشن میں مصروف ہیں۔ تعمیراتی کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مٹی اور گرد کو ڈھانپیں، جبکہ واسا، ایل ڈی اے اور مقامی ادارے سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کر رہے ہیں۔

محکمہ ماحولیات نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ماسک پہنیں، غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں، بچوں اور بزرگوں کو گھر پر رکھیں اور موٹر سائیکل یا گاڑی کا کم استعمال کریں۔

پیشگوئی کے مطابق اتوار کو ہوا کی رفتار کم (1 سے 9 کلومیٹر فی گھنٹہ) رہے گی اور شہر میں دھند چھائی رہے گی۔ اوسط اے کیو آئی 195 سے 210 کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ دوپہر کے وقت درجہ حرارت بڑھنے سے یہ قدرے کم ہو کر 150 تک آ سکتا ہے۔

دریں اثناء سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ لاہور کے علاقے کہنہ میں اینٹی اسموگ گن آپریشن کے نتیجے میں آلودگی کی سطح میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر کیے گئے آپریشن سے اے کیو آئی 666 سے کم ہو کر 170 تک پہنچ گیا، جو جدید مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے تصدیق شدہ ہے۔ ہم جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔