جنوبی افریقہ کو دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے اپنے مایہ ناز اسپنر کیشَو مہاراج کی واپسی سے بڑا سہارا ملا ہے، جو پاکستان کے خلاف راولپنڈی میں ہونے والا ہے۔ کپتان ایڈن مارکرم نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی۔

کیشَو مہاراج جن کی عمر 35 سال ہے گروئن انجری سے صحتیاب ہو کر ٹیم میں واپس آئے ہیں۔ وہ لاہور میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں شامل نہیں تھے جو پاکستان نے 93 رنز سے جیت لیا تھا۔

مارکرم نے اتوار کو پریس کانفرنس میں کہاکہ یقیناً انہیں دوبارہ کیمپ میں دیکھنا بہت خوشی کی بات ہے۔ وہ بہت زیادہ تجربہ اور اعلیٰ مہارت لے کر آتے ہیں،

اس لیے ہم کل سے شروع ہونے والے میچ کے منتظر ہیں، جو نہ صرف ہمارے لیے سیریز برابر کرنے کا موقع ہے بلکہ ان کنڈیشنز میں بہتر ہونے اور پہلے میچ میں سامنے آنے والی خامیوں کو درست کرنے کا موقع بھی ہے۔

مہاراج نے اب تک 59 ٹیسٹ میچز میں 203 وکٹیں حاصل کی ہیں اور وہ جنوبی افریقہ کے سب سے کامیاب اسپن باؤلر ہیں۔

لاہور میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ ایک سست اور گھومنے والی پچ پر ہوا، جہاں اسپنرز کا غلبہ رہا اور مارکرم راولپنڈی کی پچ سے بھی اسی قسم کی توقع کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہمیں امید ہے کہ پچ اسپن کرے گی۔ ہم پہلے دن سے ہی ایسی کنڈیشنز کی توقع کر رہے تھے اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پہلے ٹیسٹ کے بعد ہوم ورک کریں، نئی حکمت عملی بنائیں تاکہ ان حالات میں خود کو کامیابی کے لیے بہتر بنا سکیں۔

جب بھی اسپننگ کنڈیشنز کی بات ہوتی ہے تو ایک اندازہ ہی ہوتا ہے کہ پچ کب سے شدید اسپن دینا شروع کرے گی۔

مارکرم نے مزید کہا جنوبی افریقہ نے پہلے میچ میں تین اسپنرز کھلائے تھے اور مہاراج کی واپسی کے بعد غالب امکان ہے کہ سائمن ہارمر، سینوران متھوسامی یا پرنیلان سبراین میں سے کسی ایک کو ٹیم سے باہر کیا جائے گا۔

لاہور میں پاکستان کی فتح نے جنوبی افریقہ کی ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل 10 میچوں کی کامیاب ترین فتوحات کے سلسلے کو ختم کر دیا۔