کیا مچل اسٹارک نے بین الاقوامی کرکٹ کی تیز ترین گیند کرانے کا ریکارڈ توڑ دیا؟

پرتھ میں بھارت کے خلاف پہلے ون ڈے میچ کے دوران آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک کی پہلی گیند نے کرکٹ شائقین میں ہلچل مچا دی۔ بھارتی کپتان روہت شرما کے خلاف کی گئی یہ گیند 176.5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حیران کن رفتار سے ریکارڈ کی گئی، جس پر شائقین نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا اسٹارک نے بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین گیند پھینک دی ہے؟

آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا، جس کے بعد مچل اسٹارک نے شاندار اوورز کرائے اور بھارت کے ابتدائی بلے بازوں پر دباؤ ڈالا۔ انہوں نے ویرات کوہلی جیسی قیمتی وکٹ حاصل کی اور اپنی رفتار و لائن سے مسلسل مشکلات پیدا کیں۔

تاہم سب سے زیادہ توجہ کوہلی کی وکٹ پر نہیں بلکہ روہت شرما کے خلاف کرائی گئی پہلی گیند پر مرکوز رہی، جس کی رفتار 176.5 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی جو کہ او ڈی آئی کرکٹ کی تاریخ کی سب سے تیز رفتار گیند تصور کی گئی۔

بعدازاں یہ بات سامنے آئی کہ اسپیڈ گن میں خرابی کی وجہ سے یہ رفتار غلط ریکارڈ ہوئی تھی۔ حقیقت میں بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے تیز ین گیند کا ریکارڈ اب بھی سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر کے پاس ہے۔

شعیب اختر نے 2003 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے بلے باز نک نائٹ کے خلاف 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ (100.23 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے گیند کروائی تھی۔

پرتھ میں مچل اسٹارک کا ابتدائی اسپیل خاصا متاثر کن رہا، جہاں انہوں نے اپنی پیس اور لینتھ سے روہت شرما اور ان کے ساتھی اوپنر شبمن گل کو خاصی مشکلات سے دوچار کیا۔

اسٹارک مسلسل 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب گیندیں کراتے رہے، جس کے باعث بھارتی اوپنرز آغاز میں جم کر نہ کھیل سکے۔

چوتھے اوور میں آسٹریلیا کو پہلی کامیابی اُس وقت ملی جب جوش ہیزل ووڈ نے روہت شرما کو آؤٹ کر دیا۔ ایک شارٹ لینتھ گیند پر روہت نے ایج کیا اور میٹ رینشا نے سیکنڈ سلپ میں ایک عمدہ کیچ پکڑا۔

روہت شرما نے 14 گیندوں پر صرف 8 رنز بنائے۔ یہ میچ اُن کا بھارت کے لیے چیمپئنز ٹرافی 2025 کے بعد پہلا بین الاقوامی مقابلہ تھا۔