آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان (او ایم اے پی) نے سندھ حکومت کی جانب سے انفراسٹرکچر سیس کے نفاذ پر شدید احتجاج کیا ہے، جسے پٹرولیم مصنوعات کی ریگولیٹڈ قیمتوں میں شامل کیے بغیر وصول کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے او ایم اے پی نے سیکریٹری پیٹرولیم سمیت وفاقی و صوبائی حکام کو خطوط ارسال کیے ہیں، جن میں اس اقدام کو غیرمنصفانہ قرار دیا گیا ہے۔
او ایم اے پی کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا کہ کہہم تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے سندھ حکومت کے حالیہ اقدام، یعنی 1.85 فیصد انفراسٹرکچر سیس ٹیکس کے نفاذ، پر سخت اور فوری احتجاج درج کراتے ہیں۔ یہ ٹیکس بغیر کسی مناسب طریقے سے ریگولیٹڈ پرائسنگ ڈھانچے میں شامل کیے نافذ کیا گیا ہے۔ یہ اضافی بوجھ تقریباً فی لیٹر 2.5 سے 3 روپے کے برابر ہے، جو او ایم سیز کے پہلے سے کم منافع کے مارجن کو مزید کمزور کر رہا ہے اور ان کی آپریشنل صلاحیت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
او ایم اے پی کے مطابق، او ایم سیز ایک مکمل ریگولیٹڈ ماحول میں کام کرتی ہیں جہاں مصنوعات کی قیمتیں، مارجن اور تمام اخراجات حکومت کے مقرر کردہ فارمولا کے تحت طے کیے جاتے ہیں، اس لیے کسی بھی اضافی لاگت یا کٹوتی کو برداشت کرنے کا کوئی قانونی یا عملی اختیار ان کے پاس نہیں ہے۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ او ایم سیز پہلے ہی انتہائی کم منافع کے مارجن پر کام کر رہی ہیں، اور اس 1.85 فیصد کی اضافی کٹوتی سے ان کے لیے کاروبار جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا، جس سے سپلائی چین میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
او ایم اے پی نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ پٹرولیم مصنوعات حکومت کی جانب سے ریگولیٹڈ آئٹمز ہیں، اس لیے کسی بھی سیس، لیوی یا ٹیکس کو نافذ کرنے سے پہلے اسے قیمت کے فارمولا میں شامل کرنا ضروری ہے۔ جب تک 1.85 فیصد سیس کو اوگرا کے ریگولیٹڈ پرائس میکانزم میں شامل نہیں کیا جاتا، اس کی براہ راست کٹوتی قانونی طور پر درست نہیں۔
او ایم اے پی نے وزارتِ توانائی (پٹرولیم ڈویژن) سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر سندھ حکومت کے اس فیصلے پر عملدرآمد روکنے کے احکامات جاری کرے، جب تک کہ یہ سیس باضابطہ طور پر حکومت کے نوٹیفائی کردہ قیمتوں کے ڈھانچے میں شامل نہ ہو۔ بصورت دیگر یہ اقدام پٹرولیم مارکیٹنگ رولز، اوگرا آرڈیننس، اور قائم شدہ قیمتوں کے اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا۔
چیئرمین او ایم اے پی طارق وزیر علی نے خبردار کیا کہ اگر یہ مسئلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس سے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کا اعتماد بری طرح متاثر ہوگا اور ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025