پاکستان اور افغانستان نے دوحہ میں ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد فوری جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام اور ماہِ اکتوبر کے آخر میں مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ اعلان اتوار کے روز وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کیا۔

قطر کی میزبانی اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے 13 گھنٹے طویل مذاکرات کا مقصد پاک-افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی لانا تھا۔

پاکستان کا اعلیٰ سطح وفد، جس کی قیادت وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کی، ہفتے کے روز دوحہ پہنچا جہاں افغان طالبان حکام کے ساتھ کئی گھنٹے طویل بات چیت کی گئی۔ یہ مذاکرات سرحدی جھڑپوں اور افغانستان کے اندر حافظ گل بہادر گروپ کے کیمپوں پر پاکستانی حملوں کے تناظر میں ہوئے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر پوسٹ میں اعلان کیا کہ جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے دہشت گرد حملے فوری طور پر بند کیے جائیں گے۔

۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر اتفاق کیا ہے اور 25 اکتوبر کو استنبول میں ایک اور مذاکرات کا دور منعقد کیا جائے گا تاکہ معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوسکے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہم دونوں برادر ممالک، قطر اور ترکیہ کے مخلصانہ کردار کے شکر گزار ہیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نیوز نے قطری وزارتِ خارجہ کے حوالے سے تصدیق کی کہ نہ صرف جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے بلکہ دو طرفہ امن و استحکام کے لیے ایک مستقل میکنزم کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

قطری بیان کے مطابق، آئندہ دنوں میں فالو اَپ اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ معاہدے کے نفاذ اور تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ قطر نے اسے دونوں ممالک میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

ادھر ہفتے کے روز مذاکرات کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم افغان حکام پر زور دیا کہ وہ عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں پر عمل کریں اور اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کریں۔

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان قطر کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔