وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور سعودی عرب کی گو ٹیلی کام (اتحاد عطیب ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی) کے مشترکہ اقدام سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ڈیجیٹل تعاون کو آگے بڑھانے کے ایک اہم قدم کے طور پر، ہفتے کو اسلام آباد میں گو اے آئی ہب کا افتتاح کیا گیا۔

اس افتتاح کو مصنوعی ذہانت (اے آئی )، ڈیٹا انفرااسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا ہے جسے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے ممکن بنایا گیا جو سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک سرمایہ کاری شراکت داری کو فروغ دے رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ سنگِ میل ایس آئی ایف سی اور وزارتِ اطلاعات و ٹیلی کمیونیکیشن کی اس کامیابی کی تصدیق کرتا ہے کہ انہوں نے دوطرفہ ارادے کو عملی شراکت داری میں تبدیل کیا، پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھایا اور دونوں ممالک کو عالمی جدت کے منظرنامے میں کلیدی شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔

تقریب میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، گو گروپ کے سی ای او یحییٰ بن صالح المنصور، ایس آئی ایف سی کے سینئر اہلکاروں اور پاکستان کے ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کے نمائندوں نے شرکت کی۔

گو ٹیلی کام کے سی ای او یحییٰ بن صالح المنصور نے اپنی کمپنی کی پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے طویل المدتی وابستگی کو دوبارہ دہرا دیا۔

یہ اقدام ایس آئی ایف سی کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطح مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آیا جو وزیراعظم کے حالیہ ریاض دورے کے بعد ہوئے۔

دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کا مرکز ڈیٹا سینٹر اور مصنوعی ذہانت کے انفرااسٹرکچر کی ترقی، گو ٹیلنگ حب کے قیام، اور گو اے آئی حب پاکستان کی عملی شروعات پر تھا۔

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ گو اے آئی ہب کا آغاز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں سے جاری برادرانہ تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے، گو اے آئی ہب روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، تکنیکی تربیت فراہم کرے گا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا اور مقامی اسٹارٹ اپس کو عالمی سطح پر اپنا دائرہ کار بڑھانے میں مدد دے گا، یہ اقدام وزیراعظم کے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن اور قومی اے آئی پالیسی کے مطابق ہے، اس ہب کے ذریعے عالمی آؤٹ سورسنگ کی تین ممالک کی فہرست میں شامل کرنے والے پاکستانی فری لانسرز اب سعودی کمپنیوں کو دور سے خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔