پاکستان

14 لاکھ 70 ہزار سے زائد افغان مہاجرین وطن واپس چلے گئے، حکومت نے مزید توسیع کا امکان مسترد کر دیا

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس...
شائع October 17, 2025 اپ ڈیٹ October 17, 2025 06:05pm

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں افغان مہاجرین کی جاری وطن واپسی پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور تمام غیر قانونی مقیم افغانوں کی جلد اور باوقار واپسی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

بیان کے مطابق اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے نمائندے اور اعلیٰ وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ فورم کو بریفنگ دی گئی کہ 16 اکتوبر 2025 تک 1,477,592 افغان شہریوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا ہے اور غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو مزید توسیع نہیں دی جائے گی۔ صرف درست پاکستانی ویزا رکھنے والے افراد کو ہی رہنے کی اجازت ہوگی۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ افغان سرحد پر ایگزٹ پوائنٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ وطن واپسی کو تیز اور آسان بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے فورم کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز کے پی کے نو منتخب وزیراعلیٰ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور انہیں وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے اور وفاقی حکومت اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ ہر طرح سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیراعلیٰ کے پی کے کی عدم موجودگی کی وجہ سے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ اور بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم نے اجلاس میں ان کی نمائندگی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں کی مشکلات میں ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانیاں دیں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا۔

انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں دہشت گرد حملے افغان سرزمین سے ہو رہے ہیں، ایسے واقعات میں افغان باشندے ملوث ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے دہشت گردوں کی سرحد پار سے دراندازی روکنے کے لیے بھرپور سفارتی اور سیاسی کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ امور، وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام نے متعدد بار افغانستان کا دورہ کیا ہے تاکہ عبوری افغان حکومت سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے بات چیت کی جا سکے۔

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پیاروں کو کھونے والے پاکستان کے بہادر عوام سوال کر رہے ہیں کہ حکومت کب تک افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھاتی رہے گی۔

یہ بیان پڑوسی ممالک کے درمیان جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کے درمیان سامنے آیا ہے جس میں سرحد کے دونوں جانب درجنوں افراد کا جانی نقصان ہوا ہے۔

شہباز شریف نے ہدایت کی کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام افغانوں کی جلد وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے تمام صوبائی حکومتیں اور وفاقی اور صوبائی ادارے قریبی رابطہ کاری سے کام کریں۔

انہوں نے پاکستان پر افغانستان کے حالیہ حملے اور عسکریت پسندوں کی جانب سے دراندازی کی کوششوں کی حمایت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے حملے کا بھرپور اور موثر جواب دیا ہے۔

انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا جن کی کمان میں پاک فوج نے افغانستان کی جارحیت کو پسپا کیا۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کے دوران پہلے ہی یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ وطن کے دفاع کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی مالک ہیں۔

اجلاس میں افغان مہاجرین کی جاری وطن واپسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو پناہ یا رہائش فراہم کرنا ایک مجرمانہ عمل ہے اور ایسے افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

حکومت افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل میں عوام کو شامل کرے گی اور کسی کو بھی حکومتی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانوں کو پناہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ وطن واپسی کے عمل کے دوران بزرگ افراد، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے ساتھ احترام کا برتاؤ کیا جائے۔

آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندے نے پاکستان کی سفارتی کامیابی کو سراہا اور اس سلسلے میں مرکزی کردار پر وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کی قیادت کو سراہا۔

اجلاس کے اختتام پر فورم نے فیصلہ کیا کہ اجلاس میں پیش کی جانے والی تمام سفارشات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے منصوبے پر عمل درآمد میں صوبوں سے مکمل تعاون کی درخواست کی ہے۔