چین کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنے اسٹریٹجک اتحادی کو کان کنی کے شعبے میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے تعاون سے مکمل طور پر آگاہ رکھتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے اسٹریٹجک اعتماد اور قریبی رابطے برقرار ہیں۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان ہمیشہ اعلیٰ سطح پر اسٹریٹجک اعتماد اور قریبی روابط رہے ہیں۔ دونوں ممالک اہم باہمی مفادات پر مستقل مشاورت اور رابطے میں رہتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور امریکہ نے حال ہی میں اہم معدنیات کے شعبے میں 500 ملین ڈالر مالیت کی مفاہمت کی یادداشت (ایم اویو) پر دستخط کیے ہیں۔

ترجمان کے مطابق اسلام آباد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس کا تعاون چین کے مفادات یا دوطرفہ تعلقات کو کسی طرح متاثر نہیں کرے گا۔

لن جیان سے اس موقع پر ایک سوال میں امریکہ کو معدنیات کی ترسیل اور چین کی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے متعلق استفسار کیا گیا۔انہوں نے واضح کیا کہ چینی برآمدی کنٹرول کے حالیہ اقدامات پاکستان سے غیر متعلق ہیں اور ان کا مقصد عالمی امن، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔

دریں اثنا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس تصویر سے متعلق سوال کے جواب میں جس میں مبینہ طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو معدنیات کے نمونے دکھاتے ہوئے پیش کیا گیا ہے ترجمان نے سختی سے تردید کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام کہانیاں اور تصاویر بے بنیاد ہیں، جو چین اور پاکستان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے گھڑی گئی ہیں۔

ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین اور پاکستان ہر موسم کے اقتصادی تعاون پر مبنی شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے۔کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025