غزہ میں جنگ بندی کے لیے وفاقی دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے کے باہر ایک مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد میں معمولاتِ زندگی دوسرے روز بھی بری طرح متاثر ہیں۔

آج نیوز کے مطابق انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج، جی ٹی روڈ، موٹروے اور مری روڈ سمیت مرکزی شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔ جس کے باعث شہریوں کو دفاتر اور تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ میٹرو بس اور موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی معطل ہیں۔

لاہور کے علاقے شاہدرہ میں مذہبی جماعت کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔

اسلام آباد میں ریڈ زون مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ صرف مارگلہ روڈ کو آمد و رفت کے لیے کھلا رکھا گیا ہے۔ راولپنڈی میں وارث خان، کمیٹی چوک، سکستھ روڈ، شمس آباد، ایران روڈ، راول روڈ، شاہین چوک، صدر اور پرانے ائیرپورٹ سے آنے والے تمام راستے بھی بند ہیں۔

ذرائع کے مطابق فیض آباد، کھنہ پل، کری روڈ اور ڈھوک کالا خان کے داخلی راستے بھی کنٹینرز لگا کر سیل کر دیے گئے ہیں۔ ائیرپورٹ جانے والے راستوں کی بندش کے باعث پروازوں میں تاخیر کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب راولپنڈی انتظامیہ نے ہیوی ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے جب کہ جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس دوسرے روز بھی معطل ہے۔

جمعے کی رات وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے فیض آباد کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ’کسی جتھے کو اسلام آباد یا کسی اور شہر پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

ایک پریس کانفرنس میں طلال چوہدری نے کہا کہ غزہ کے بہانے احتجاج اب بے مقصد ہیں کیونکہ “دنیا مطمئن ہے کہ اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن ٹی ایل پی احتجاج نہیں کر رہی بلکہ ملک میں بدامنی پھیلا رہی ہے۔ فلسطینیوں نے خود غزہ امن معاہدے کے بعد شکرگزاری کا اظہار کیا ہے، پھر بھی ٹی ایل پی کا اس کے خلاف احتجاج منطق کے خلاف ہے۔

وزیر نے مزید کہا کہ لاہور میں گرفتار کیے گئے متعدد مشتبہ افراد نے پرتشدد سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا ہے اور ان کے قبضے سے ایسے مواد بھی برآمد ہوئے ہیں جو ان سرگرمیوں میں استعمال کیے جانے تھے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ جھڑپوں میں متعدد پولیس اور رینجرز اہلکار زخمی ہوئے، سیف سٹی کیمرے خراب کیے گئے اور فائرنگ کے واقعات بھی ریکارڈ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت تشدد یا افراتفری کو برداشت نہیں کرے گی ، پنجاب کی حکومت معاملے کو تحمل کے ساتھ نمٹ رہی ہے۔

ادھر، اسلام آباد میں پولیس اور فرنٹیئر کور کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے اور فیض آباد کے قریب تمام ہوٹلز بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ شہریوں نے شکایت کی کہ سڑکوں کی بندش سے کاروبار، تعلیم اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

وزارت داخلہ نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے اور متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ای ٹی سی نے 110 ٹی ایل پی کارکنان کو ریمانڈ پر بھیج دیا

لاہور کی اینٹی ٹیررازم کورٹ (اے ٹی سی) نے جمعہ کو 110 ٹی ایل پی کارکنان کو پرتشدد احتجاج اور اہلکاروں پر حملوں کے کیس میں پولیس کے حوالے کرتے ہوئے 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا۔

عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ تفتیش کو قانون کے مطابق سختی سے انجام دیں۔