وزیراعظم شہبازشریف نے ناقص کارکردگی والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی بھرپور ہدایت جاری کی اور حکام پر زور دیا کہ نجکاری کے دوران سب سے زیادہ فائدہ مند معاہدے یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے بیوروکریٹک سست روی اور انتظامی تاخیر کے خطرات سے بھی خبردار کیا۔

اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ نجکاری کے تمام اقدامات میں قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے۔

انہوں نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماہرین کو فوری طور پر عمل میں شامل کرنے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت بھی دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ نجکاری کے عمل کی ذاتی نگرانی کریں گے اور باقاعدہ پیش رفت کے جائزے یقینی بنائیں گے تاکہ سرکاری اداروں کی نجکاری میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

اہلکاروں نے وزیراعظم کو نجکاری کے لیے نامزد 24 ریاستی اداروں کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ان میں سے 15 کے لیے منصوبہ بندی پہلے ہی جاری ہے۔

وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ خسارہ دینے والے اور عوامی وسائل ضائع کرنے والے اداروں کو ترجیح دی جائے اور نجکاری کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی، اویس لغاری اور دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔