صنعتی ماہرین اور آٹو سیکٹر کے رہنماؤں نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو پائیدار ترقی کے لیے گرین موبلٹی کی طرف منتقلی تیز کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے مستقل پالیسی اصلاحات، چارجنگ انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور الیکٹرک و ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ کے لیے مالی مراعات ناگزیر ہیں۔
یہ بات منگل کو مقامی ہوٹل میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور انڈس کنسورشیم کے زیر اہتمام شفٹنگ گیئرز: لانچ آف آٹوموٹیو اسٹڈی اینڈ اسٹیک ہولڈر ڈائیلاگ کے موقع پر کہی گئی۔ اس موقع پر تحقیقی مطالعہ گرین ٹرانزیشن ،پاکستان میں آٹوموٹیو انڈسٹری کے لیے رکاوٹیں اور مواقع پیش کیا گیا، جس میں ملک کی سبز نقل و حرکت کی راہ میں موجود چیلنجز اور حل تجویز کیے گئے۔
انڈس موٹر کمپنی کے سی ای او علی اصغر جمالی نے کہا کہ کمپنی نے شمسی توانائی اور ہائبرڈ وہیکلز کے ذریعے کاربن اخراج میں کمی کی کوششیں تیز کی ہیں۔ ان کے مطابق مکمل ای وی تبدیلی اس وقت تک مؤثر نہیں ہوسکتی جب تک ملک کی 62 فیصد بجلی فوسل فیول سے پیدا ہو رہی ہے۔
انڈس کنسورشیم کے سی ای او حسین جروار نے کہا کہ نئی انرجی وہیکل پالیسی اگر مالی رکاوٹیں کم کی جائیں تو سولرائزیشن مہم کی طرح کامیاب ہوسکتی ہے۔
مطالعے میں تجویز دی گئی کہ حکومت فوری طور پر ای وی پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لیے قومی ٹاسک فورس تشکیل دے ، ملک گیر سطح پر کم نرخوں پر چارجنگ نیٹ ورک تیار کرے اور آٹوموٹیو انڈسٹری میں ہائبرڈ و الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار کا کم از کم حصہ لازمی شامل کرے،تاکہ پاکستان عالمی گرین موبلٹی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے۔ ماہرین نے بیٹری ری سائیکلنگ فریم ورک اور گرین کار فنانسنگ میں بینکوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں صرف 35 پبلک چارجنگ اسٹیشن موجود ہیں، جبکہ بجلی کی 60 فیصد پیداوار تاحال فوسل فیول پر منحصر ہے، جس سے گرین ٹرانزیشن کے راستے میں بڑی رکاوٹیں درپیش ہیں۔