وزارتِ دفاع نے ایسے نجی وی لاگرز، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا گروپوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جو بغیر کسی سائنسی قابلیت، تربیت یا مہارت کے موسم کی غیر مصدقہ پیشگوئیاں جاری کر رہے ہیں۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں 80 سے زائد نجی گروپس، وی لاگرز اور یوٹیوبرز، جن میں ”ویدر والے“، ”پاکستان ڈوپلر“ اور ”ویدر اپڈیٹس پی کے“ شامل ہیں، سوشل اور مین اسٹریم میڈیا پر غیر تصدیق شدہ پیشگوئیاں اور وارننگز جاری کر رہے ہیں، جو بعض اوقات عوام میں بے چینی اور خوف و ہراس کا باعث بنتی ہیں۔

مراسلے میں وزارتِ اطلاعات و نشریات اور وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن سے درخواست کی گئی ہے کہ متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ہدایات جاری کی جائیں تاکہ عوامی تحفظ یقینی بنایا جا سکے، غلط معلومات کی روک تھام کی جا سکے اور عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی ہدایات کے مطابق سائنسی بنیادوں پر مبنی، مصدقہ معلومات کی ترسیل کو ممکن بنایا جا سکے۔

وزارت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان محکمہ موسمیات ( پی ایم ڈی) ملک میں موسم سے متعلق پیشگوئیاں، الرٹس یا وارننگز جاری کرنے والا واحد مجاز ادارہ ہے۔ اس لیے کسی بھی دوسرے نجی یا غیر سرکاری فرد یا پلیٹ فارم کو اس سلسلے میں پیشگوئیوں کا اختیار حاصل نہیں۔

وزارتِ دفاع نے نشاندہی کی ہے کہ نجی سطح پر جاری کی جانے والی موسمی پیشگوئیاں عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے طے کردہ معیار اور رہنما اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ وزارت نے زور دیا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی نجی فرد یا ادارے کو اس طرح موسمی افواہیں پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

مراسلے میں کہا گیا کہ ”یہ تمام نجی ادارے جو موسمی پیشگوئیاں جاری کر رہے ہیں، ان کا مشاہداتی آلات نہ تو رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی ان کی ڈبلیو ایم او کے معیار کے مطابق کیلیبریشن (درست پیمائش کی تصدیق) کی گئی ہے۔ مزید برآں، ان کے پاس موسمی پیشگوئی کے تربیت یافتہ ماہرین بھی موجود نہیں ہیں۔“

وزارت نے انتباہ کیا کہ ایسی غلط معلومات نہ صرف پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی ) کے اختیارات کو کمزور کرتی ہیں، بلکہ عوام میں غلط فہمی پیدا کرتی ہیں اور ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

اس سلسلے میں وزارتِ دفاع نے وزارتِ اطلاعات و نشریات سے درخواست کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام لائسنس یافتہ نشریاتی ادارے اور میڈیا ہاؤسز صرف اور صرف سرکاری اور مجاز ذرائع سے حاصل کردہ موسمی معلومات، وارننگز اور مشورے نشر کریں۔

۔

وزارتِ دفاع نے زور دیا ہے کہ ”موسمی پیشگوئیوں کی تشہیر، اشاعت یا حوالہ غیر مجاز نجی اداروں یا افراد کی جانب سے کرنا ممنوع قرار دیا جائے اور متعلقہ سرکاری و نجی اداروں کو ہدایت دی جائے کہ وہ غیر سرکاری و غیر مجاز ڈیٹا ذرائع کے ساتھ رابطہ یا ان کا حوالہ دینے سے گریز کریں۔“

مزید کہا گیا ہے کہ ”میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے گزارش کی جائے کہ وہ پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کو موسمی یا ماحولیاتی معلومات کا واحد سرکاری ذریعہ تسلیم کرتے ہوئے ہر قسم کی معلومات کی نشر و اشاعت میں واضح طور پر اس کا حوالہ دیں۔“

وزارت نے وضاحت کی کہ پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) وزارتِ دفاع سے منسلک ایک ذیلی ادارہ ہے، جس پر پورے ملک میں موسمیاتی اور زلزلہ جاتی خدمات فراہم کرنے کی آئینی و تکنیکی ذمہ داری عائد ہے۔

اس کے بنیادی فرائض میں شامل ہیں: موسم کی پیشگوئی جاری کرنا،موسمیاتی وارننگز اور الرٹس جاری کرنا،سمندری طوفانوں کی نگرانی اورسونامی کی بروقت وارننگ فراہم کرنا

مزید برآں یہ پیشگوئیاں اور خدمات کئی اہم شعبوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں، جیسے:عوامی تحفظ،زراعت،سیاحت،سمندری و فضائی آمدورفت کی سیکیورٹی

وزارتِ دفاع نے غیر مجاز موسمی معلومات کی ترسیل کو قومی سلامتی، عوامی مفاد اور سائنسی اعتماد کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور زور دیا ہے کہ صرف پی ایم دی کو موسمیاتی معلومات کا معتبر اور سرکاری ذریعہ مانا جائے۔